.

فلسطینی "دیوار فاصل" کا پیرس میں افتتاح!

فلسطین کے حالات حاضرہ بارے فرانس میں خوبصورت تصویری نمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی قوم کے خلاف اسرائیلی مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے سرگرم عمل اداروں کی کاوشوں نے جہاں فلسطینیوں کی مظلومیت کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کا راستہ ہموار کیا وہیں صہیونیوں کے جرائم کو بے نقاب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایسی ہی ایک کاوش فرانس کے صدر مقام پیرس میں ’’عرب ورلڈ انسٹیٹیوٹ‘‘ کے زیراہتمام کی گئی ہے جس میں فلسطینی فن کاروں نے بھرپورحصہ لیتے ہوئے مختلف خاکوں کی مدد سے فلسطین کے حالات حاضرہ کو دنیا کے سامنے پیش کرنےکی قابل تحسین کوشش کی ہے۔

’’عرب ورلڈ انسٹیٹیوٹ‘‘ کے زیراہتمام حال ہی میں ’’فلسطین عالم عرب انسٹیٹیوٹ میں‘‘ کے زیرعنوان ایک نمائنش کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں فلسطینی مصور لاریسا صنصور، خالد جرار، بشیر مخول، شادی زقزوق اور نداء بدوان حصہ لے رہے ہیں۔

نمائش میں معاصر فلسطینی مصوروں نے اپنے قلم سے بالعموم پوری دنیا بالخصوص فرانس اور یورپی ملکوں کے عوام کو دعوت فکر دینے کی منفرد کوشش کی ہے۔ حب الوطنی کے منہ بولتے تصویری فن پاروں میں فلسطینی خاکہ سازوں نے وطن عزیز سے محبت، اسرائیلی قبضے، اس کے منفی اثرات، پبلک سیکٹر اور خطے کے عمومی تصور کو تصاویر کی مدد سے نہایت دلفریب انداز میں اجاگر کر کے ناظرین و حاضرین کی داد تحسین وصول کی ہے۔

فلسطینی مصور خالد جرار نے اپنی فنی مہارت سے فلسطین میں اسرائیل کی تعمیر کردہ ’’دیوار فاصل‘‘ یا ’’دیوار عار‘‘ کو دلآویز انداز میں پیش کر کے گویا پیرس میں فلسطینی دیوار فاصل کا افتتاح کر دیا۔

یہ نمائش 20 مارچ تک جاری رہے گی۔ نمائش کے اختتام پر’’ایک دن غزہ‘‘ کے لیے مختص کیا جائے گا جس میں اسرائیلی ناکہ بندیوں اور مسلسل جنگجوں کے شکار غزہ کے مفلوک الحال کے حالات کو خاکوں کی مدد سے اجاگر کیا جائے گا۔ نمائش کے دوران فلسطین میں حالیہ ایام میں تیار کی جانے والی بہترین فلموں کی بھی نمائش کی جائے گی۔ مسئلہ فلسطین سے متعلق اہمیت کے حامل لیکچرز کا اہتمام بھی پروگرامات کا حصہ ہوگا۔

نمائش کے افتتاح کے وقت عرب ورلڈ انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین جاک لانگ اور فرانس میں فلسطینی اتھارٹی کے سفیر سلمان الھرفی سمیت فن کاروں اور مصوروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔