.

لیبیا میں داعش کے کیمپ پر امریکی فضائی حملہ

حملہ مصراتۃ کے علاقے میں کیا گیا، اہم افراد مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوجی ترجمان نے بتایا ہے کہ ان کی فوج نے جمعہ کے روز انتہا پسند تنظیم 'داعش' کے خلاف فضائی حملے کئے ہیں۔

فضائی حملوں کا نشانہ بننے والوں میں تیونس سے تعلق رکھنے والے دہشت گردی نور الدین شوشان بھی شامل تھے جو افریقا میں امریکی فوجی کمان کے ترجمان کرنل مارک چیڈل کے بقول گذشتہ برس تیونس میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث پایا گیا۔

کرنل چیڈل نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کو بتایا کہ ہم آپریشن کے نتائج کا جائزہ لے رہے۔ اگر یہ کارروائی مناسب رہی تو ہم اس کا جائزہ لیکر اس سے متعلق مزید معلومات فراہم کریں گے۔

امریکی فضائیہ کے ایک عہدیدار نے ایک اور نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے فضائی حملے میں شوشان کی ہلاکت کا 'غالب امکان' ظاہر کیا ہے۔

ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے جمعہ کو علی الصباح صبراتہ کے مغربی علاقے القصر بتلیل میں ایک مکان کو نشانہ بنایا۔ نشانہ بنایا جانے والا مکان لیبیا میں عسکری کارروائیوں کی مرتکب تنظیم کے سربراہ عبدالحکم المشوط نامی کی ملکیت بتایا جاتا ہے، جو مبینہ طور پر حال ہی میں شام میں داد شجاعت دینے کے بعد واپس لوٹا تھا۔ مکان، فارم ہاوس کے عین وسط میں بنایا گیا تھا جہاں پر اطلاعات کے مطابق عرب جنگجووں بالخصوص تیونسیوں کی بڑی اکثریت مقیم ہے۔

انہی ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا کہ صبراتۃ ہسپتال میں 46 لاشیں لائی گئیں، جن میں اکثریت غیر ملکیوں کی تھی۔ یہ افراد جنوبی صبراتۃ کے متذکرہ فارم ہاوس پر امریکی فضائیہ کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

لیبیا میں 'العربیہ' ذرائع نے اس سے واضح کیا تھا کہ نامعلوم طیاروں نے داعش کے گروپوں کے فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔ صبراتۃ کا علاقہ تیونس کے سرحد کے قریب واقع ہے جن کے بارے میں مغربی ذرائع کا خیال ہے کہ وہ یہی روٹ استعمال کر کے لیبیا میں اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔