.

روسی طیاروں کی ایران کو فروخت اسلحے پر پابندی کی خلاف ورزی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ روس نے اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پیشگی اجازت کے بغیر ایران کو لڑاکا جیٹ فروخت کیے تو یہ سودا ایران پر اقوام متحدہ کی جانب سے عاید اسلحے کی پابندی کی خلاف ورزی ہوگا۔

روس کی ریا نیوز ایجنسی نے بدھ کو یہ اطلاع دی تھی کہ روس اس سال ایران کو سخوئی ایس 30 ایس ایم کثیر مقاصد لڑاکا طیاروں کی فروخت کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرے گا۔

ایران کے ساتھ امریکا اور پانچ دوسری عالمی طاقوں نے 14 جولائی 2015ء کو طے پائے تاریخی جوہری معاہدے کے ساتھ اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ ایران کو آیندہ پانچ سال کے لیے روایتی ہتھیار اور اسلحہ فروخت کرنے پر بھی پابندی عاید ہوگی۔البتہ وہ سلامتی کونسل کی پیشگی اجازت کے بعد یہ روایتی اسلحہ خرید کرسکتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کے تحت ایران کو خاص قسم کے روایتی اسلحہ کی فروخت پر پابندی عاید ہے۔البتہ الگ الگ کیس کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد ایسا کیا جا سکتا ہے۔

مسٹر ٹونر نے کہا کہ ''ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات کرنے والے تمام ممالک اور خاص طور پر روس کو ان پابندیوں سے مکمل طور پر آگاہ ہونا چاہیے۔اس پابندی کا اطلاق ایس 30 ایس ایم لڑاکا جیٹ سمیت تمام لڑاکا طیاروں پر ہوتا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر میڈیا رپورٹس درست ہیں تو ہم اس کو روس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دوسرے ممالک کے ساتھ دوطرفہ طور پر طے کرلیں گے''۔