.

شام میں ایرانی فورسز کی وڈیو، ایرانی دعوؤں کا پول کھل گیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کے روز ایرانی سوشل ویب سائٹوں پر ایک نئی وڈیو گردش میں رہی جس میں ایرانی #پاسداران_انقلاب کے زیر انتظام فورسز کو #شام کے شہر #حلب کے شمال مغرب میں موجود دکھایا گیا ہے۔ اس وڈیو نے ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے کچھ روز قبل دیے گئے ان بیانات کو بے بنیاد ثابت کردیا ہے جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ شام میں ایرانی فورسز نہیں پائی جاتیں اور وہاں پر ایرانی صرف مشیر کی حیثیت سے موجود ہیں۔

فیس بک پر "شام اور عراق میں جنگ کی رپورٹیں" کے نام سے فارسی زبان کے ایک پیج پر پوسٹ کی جانے والی وڈیو حلب شہر میں شامیوں کے خلاف عسکری کارروائیوں کے آغاز سے قبل، ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز کے جمع ہونے کی ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ یہ فورسز "حضرت حجت خوزستان" بریگیڈ کے زیرانتظام ہیں اور "مہدی منتظر" کی جانب اشارہ کرہی ہیں، اس کا صدردفتر اہواز صوبہ ہے۔ وڈیو میں "امام حسن" بریگیڈ کے زیرانتظام یونٹ بھی شامل ہیں جس کا صدر دفتر بہبہان شہر ہے جب کہ "امام سجاد" بریگیڈ کے عناصر کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جس کا صدر دفتر کازرون شہر ہے۔

وڈیو میں حلب شہر کے شمال مغرب میں لڑائی کے دوران پاسداران انقلاب کے مارے جانے والے ارکان بھی نظر آرہے ہیں جن کو ایران کے مخلتف شہروں میں دفن کیا گیا۔ ان میں عباس كردونی، محمود اسکندری، داود نری ميسائی، رضا عادلی، مصطفى خليلی، علی حسين كاہكش، احمد مجدی اور علي رضا حاجی وند شامل ہیں۔

یاد رہے کہ حلب کے شمال میں روسی فضائی حملوں کی معاونت سے کیے جانے والے حالیہ حملوں کے نتیجے میں، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تقریبا 30 ہزار شامی شہری بے گھر ہوگئے جن میں 80 فی صد خواتین اور بچے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد #جواد_ظریف نے منگل کے روز یورپی پارلیمنٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ المر بروک کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ "بعض لوگوں کے دعوؤں کے برعکس شام میں ایرانی عسکری فورسز نہیں ہیں۔ ہمارے فوجی مشیر ہیں جو اس ملک کی دعوت پر آئے اور جب شامی حکومت ہم سے مطالبہ کرے گی تو وہ واپس لوٹ جائیں گے"۔