.

فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے میں شرکت پر دس اسرائیلی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکام نے 1994ء میں الخلیل شہر میں یہودی انتہا پسند کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی یاد میں احتجاج میں شامل ہونے کی پاداش میں دس اسرائیلی باشندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی ترجمان خاتون کا کہنا تھا کہ 200 سے زائد افراد نے فلسطینیوں کی برسی پر احتجاج کا انعقاد کیا تھا جس کو منتشر کردیا گیا اور اس کے بعد مظاہرین کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں پر پتھرائو کیا گیا۔

الخلیل شہر کی مسجد ابراہیمی میں 1994 میں بروخ گولڈسٹین نے 29 نمازیوں کو شہید کردیا تھا۔ مسجد ابراہیمی کو یہودیوں کی جانب سے بھی مقدس جگہ کا درجہ دیا جاتا ہے اور اس کی ملکیت پر تنازعہ جاری ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے اس سب سے بڑے شہر میں لاکھوں فلسطینیوں کے درمیان کچھ سینکڑوں یہودی آبادکار اسرائیلی فوج کے سخت پہرے میں رہ رہے ہیں۔

پچھلے سال یکم اکتوبر سے فلسطینیوں کی جانب سے چاقو سے حملوں، فائرنگ اور گاڑی کی ٹکر سے حملوں کے نتیجے میں 27 یہودی، ایک امریکی اور ایک ایریتریائی باشندہ اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ جب اسی عرصے کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے 175 فلسطینیوں کو گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا ہے۔