.

فوجی امداد بند کرنے کےسعودی اعلان پر لبنان کا محتاط رد عمل

ریاض کا فیصلہ ہماری نا عاقبت اندیش پالیسیوں کا نتیجہ ہے: حریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کی جانب سے #لبنان کی فوجی امداد بند کرنے کے اعلان پر لبنانی سیاسی قیادت کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ لبنان کے سابق وزیراعظم اور ’’فیوچر گروپ‘‘ کے سربراہ #سعد_حریری کا کہنا ہے کہ #ریاض کی جانب سے #بیروت کی مسلح افواج کی امداد بند کرنے کے اعلان کو باریک بینی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے فوجی امداد بند کرنے کا اعلان ہماری عاقبت نا اندیشانہ اور غیر محتاط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ایسی پالیسیوں سے لبنانی قوم کے مفادات کو ہمیشہ نقصان پہنچا ہے۔

لبنان کے موجودہ وزیراعظم #تمام_سلام نے سعودی عرب کے تازہ فیصلے پر اپنے رد عمل میں کہا کہ انہیں ریاض کی جانب سے بیروت کی فوجی امداد بند کرنے کے اچانک اعلان سے بہت دکھ اور افسوس ہوا ہے۔

بیروت میں وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاض کی جانب سے فوجی امداد کی بندش کا یہ پہلا اور آخری فیصلہ ہے۔ سعودی عرب کی حکومت جو مناسب سمجھتی ہے وہی کرتی ہے تاہم انہوں نے خواہش ظاہر کہ ریاض اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ موجودہ وقت میں لبنانی فوج کی فوجی امداد بند کرنے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیراعظم تمام سلام نے کہا کہ سعودی عرب اور لبنان کے گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیإ۔ ہم اپنی دوستی اور بھائی چارے کو مشترکہ مقاصد اور مفادات کی خاطر قائم و دائم رکھنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلان کہا گیا تھا کہ ریاض نے لبنان کی فوجی امداد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔