.

روس کی بشار الاسد کو 'شائستہ دھمکی !'

روش نہ بدلی تو روس باعزت طریقے سے بحران سے نکل جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلامتی کونسل میں روس کے مستقل مندوب وتالی چورکن نے شامی صدر کے دائرہ کار کی حدود پر روشنی ڈالی ہے جو فریقین کے درمیان فوجی معاہدے کے بعد اس حوالے سے پہلا بیان ہے۔ اپنی نوعیت کے پہلے اور ایک دلچسپ بیان میں چورکن کا کہنا ہے کہ "اگر شامی حکام روس کے نقش قدم پر نہیں چلے تو روس کے پاس اس بحران سے باعزت طور پر نکل جانے کا راستہ ہو گا"۔

روسی مندوب کی جانب سے یہ تبصرہ شامی صدر کے ان مواقف پر سامنے آیا ہے جو انہوں نے شامی وکلاء کی انجمن کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں پیش کیے تھے۔ اس ملاقات میں بشار الاسد نے شامی اپوزیشن کے خلاف اپنے متعدد مواقف کا اظہار کیا تھا اور ملک میں عبوری حکومت کے موضوع سے متعلق اپنی خصوصی تشریحات کا ذکر کیا تھا جن میں اس آپشن کو تقریبا ختم ہی کردیا تھا۔ شامی صدر نے مغربی ممالک پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے ان پر "دہشت گردی کی نگرانی" اور "قوموں کو تباہ کرنے کے لیے" کام کرنے کا الزام عائد کیا۔

سلامتی کونسل میں روس کے مستقل مندوب کی زبانی سامنے آنے والے جواب میں کہا گیا کہ "ہمیں اس بات پر توجہ نہ دیں کہ بشار الاسد کیا کہہ رہے ہیں بلکہ اس بات پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے کہ وہ آخر میں کیا کچھ کریں گے"۔

روس اور بشار الاسد کے درمیان فوجی معاہدے میں آخر تک کہیں یہ بات شامل نہیں کہ وہ بین الاقوامی منظرنامے پر مقدّم نمایاں سیاسی عنوانات کے حوالے سے "رائے زنی" کریں۔ جیسا کہ انہوں نے وکلاء کی انجمن کے ساتھ ملاقات میں یہ بول کر کیا کہ عبوری حکومت محض "انارکی سے استحکام کی طرف منتقلی" کا نام ہے اور وہ بھی موجودہ آئین کے ذریعے !۔

روس کی جانب سے فوری ردعمل میں اس کے مستقل مندوب شائستہ پیرائے کو استعمال کرنے پر مجبور ہوئے تاکہ شامی صدر کو دینے جانے والے جواب کے اثر میں کچھ نرمی لائی جا سکے۔ وتالی چورکن نے واضح کیا کہ "اگر شامی حکام روس کے نقش قدم پر نہیں چلے تو روس کے پاس اس بحران سے باعزت طور پر نکل جانے کا راستہ ہوگا"۔

مبصرین کے مطابق یہ بیان اس ملک کے لیے کاری ضرب ہے جس نے روسی فوجی طیاروں کے لیے اپنی سرزمین پیش کی اور وہ بھی غیرمعینہ مدت کے لیے ... اور اس شرط کے ساتھ کہ شامی حکومت کو روسی افواج کی تعیناتی کی جگہ پیشگی اجازت کے بغیر داخلے کا استحقاق نہیں ہوگا۔

روسی مندوب نے بشار الاسد کو خبردار کیا کہ اگر ان کا ملک اس روش سے دور نہ ہوا تو ان امور کے کڑے نتائج ہوں گے۔

تاہم ضروری نہیں کہ بشار الاسد کے خلاف روسی بیانات پالیسی کے حوالے سے کسی بنیادی تبدیلی کا عندیہ ہوں۔ بالکل اسی طرح جیسا کہ روسی وزیراعظم میدویف ایک سابقہ بیان میں کہہ چکے ہیں کہ "بشار الاسد فاش غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں"، اور یہ کہ اصلاحات کرنے کے حوالے سے اب وقت گزر چکا ہے۔

مبصرین فوجی معاہدے سے قبل اور اس کے بعد سامنے آنے والے روسی موقف میں فرق کررہے ہیں۔ شامی سرزمین پر روسی افواج کی موجودگی، ماسکو حکومت پر یورپ اور امریکیوں کے ساتھ زیادہ تعاون کا تقاضہ کررہی ہے۔

جب سے سعودی عرب کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں شامی سرزمین میں فوجی مداخلت کے ارادے کا اعلان ہوا ہے، عالمی میڈیا پر تیزی کے ساتھ روسی حکومت کے پے در پے مواقف سامنے آئے ہیں۔ ان میں وزیراعظم مدویف کا یہ موقف کہ روس شام میں ہمیشہ نہیں رہے گا... روسی حکومت کا موقف جس میں کہا گیا کہ روس دہشت گردی کے پھیلاؤ پر روک لگانے کے لیے شام میں فوجی مداخلت پر مجبور ہوا... اور ان ہی سے ملتے جلتے دیگر مواقف شامل ہیں۔

وکلاء کی انجمن کے ساتھ ملاقات میں بشار الاسد نے روسی افواج کی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ وہ ہر طرح سے ان کے مفاد میں ہے۔ یہاں روس نے شامی صدر کی حیثیت کے حجم کا بالکل درست اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ "اہم بات وہ ہے جو کچھ وہ معاملے کے آخر میں کریں گے" یعنی کہ بشار الاسد محض "کریں گے"۔ اور وہ جو چاہیں کہتے رہیں۔

بشار الاسد کریں گے، ان کی باتوں پر توجہ نہ دی جائے۔ چورکن نے اس وجہ کو "پوری ذہانت اور تجربے" کے ساتھ شناخت کرلیا جس نے انہیں اپنے حجم سے بڑی سیاسی "رائے زنی" کرنے پر مجبور کردیا۔ چورکن کا کہنا تھا کہ "بشار درحقیقت سیاسی اختراعات کے نظام کے مطابق تصرفات کررہے ہیں" اور یہ ہی شام کے حوالے سے بین الاقوامی بات چیت کے محور کو تبدیل کرنے کی ان کی کوششوں کی اہم وجہ ہے۔ چورکن نے ان کے لیے حجم کا تعین کردیا کہ "وہ جو کچھ کریں گے"۔ جہاں تک اسکرپٹ سے باہر نکلنے کی بات ہے تو اس کا نتیجہ بحران سے "باعزت طور پر" نہ نکلنے کی شکل میں آئے گا۔

فوجی معاہدے میں شریک فریقین کے درمیان اب تک کا طاقت ور ترین بیان اور بحران سے "عزت" کے بغیر نکلنے کی دھمکی...یہ وہ لکیر ہے جو روس نے حجم اور نتائج کے حوالے سے اپنے حلیف کے لیے کھینچ دی ہے۔

تاہم مبصرین کا یہ سوال ہے کہ : کیا بشار الاسد بغاوت کرکے بحران سے بنا عزت نکلنے کی مہم جوئی کریں گے؟

شامی اپوزیشن تو اس بات کو باور کراتی ہے کہ بشار کسی بھی صورت "بحران" سے "باعزت طور پر ہرگز نہیں نکل سکیں گے"، وہ اس کے پیدا کرنے والے ہیں اور وہ ہی "اپنے ملک کی تباہی اور عوام کے قتل عام کے ذمہ دار ہیں"۔ شامی اپوزیشن عملی طور پر صدر بشار کی باعزت رخصتی کے عدم امکان کو یقینی بنار ہی ہے۔