.

بھارت : ہریانہ میں فوج کو مظاہرین کو گولی مارنے کا حکم

دہلی کو آب رسانی بند ،پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی بس سروس معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی شمالی ریاست ہریانہ میں پرتشدد مظاہروں میں دس افراد کی ہلاکت کے بعد فوج کو طلب کر لیا گیا ہے اور حکومت نے بلووں پر اکسانے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا ہے جبکہ دارالحکومت نئی دہلی کو پانی کی بہم رسانی معطل کردی گئی ہے۔

ہریانہ میں دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے جاٹ برادری کے لوگ سرکاری ملازمتوں میں اپنے لیے کوٹا مقرر کرنے اور تعلیم سمیت دوسری سہولتیں مہیا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔وہ حکومت کے خلاف گذشتہ ایک ہفتے سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ان کے مظاہروں میں جمعے بعد شدت آئی ہے۔

بھارت کی وفاقی حکومت نے ہریانہ میں مظاہروں پر قابو پانے کے لیے چار ہزار فوجی اور پانچ ہزار پیرا ملٹری دستے تعینات کیے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو اتوار کی شب تک ریاست میں امن و امان کی صورت حال بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دہلی سے مغرب میں واقع شہر بہادر گڑھ میں قریباً دوہزار مظاہرین نے ایک مرکزی چوک پر قبضہ کررکھا ہے اور وہ آنے والے ٹرکوں کو روک رہے تھے اور شہر میں دکانیں بند کرا رہے تھے۔

مظاہرین کے ایک لیڈر،انسٹھ سالہ کاشت کار راجندر اہلاوت کا کہنا ہے کہ ''ہم یہاں مرنے کے لیے آئے ہیں۔ہم اس وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے جب تک حکومت ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کر لیتی ہے۔ہم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے''۔

مظاہرین نے ہریانہ کے شہر جھاجر میں احتجاج کے دوران متعدد عمارتوں کو آگ لگا دی تھی اور مقامی ٹی وی چینلز سے ان عمارتوں کی فوٹیج نشر کی گئی ہے۔ہریانہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس یش پال سنگل نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں دس ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جاٹ مظاہرین نے اپنے احتجاج کے دوران مقامی وزراء کے مکانوں پر حملے کیے ہیں،ریلوے اسٹیشنوں کو نذرآتش کردیا ہے اور ریلوے کی پٹڑیوں پر ان کے احتجاج کی وجہ سے سیکڑوں ٹرینوں کی آمد ورفت متاث؛ر ہوئی ہیں۔انھوں نے پانی صاف کرنے کے ایک پلانٹ کو بھی نقصان پہنچایا اور بند کردیا ہے جس کی وجہ سے نئی دہلی کو پانی کی بہم رسانی معطل ہوگئی ہے۔بھارتی دارالحکومت کو اسی ٹریٹمنٹ پلانٹ سے زیادہ تر پانی مہیا کیا جاتا ہے۔

دہلی حکومت نے سوموار کو اسکول بند رکھنے کا حکم دیا ہے اور شہریوں کو پانی مہیا کرنے کے لیے راشن بندی کردی ہے تاکہ اسپتال؛وں اور ایمرجنسی سروسز کو آب رسانی یقینی بنائی جاسکے۔

بھارت میں ماروتی سوزوکی کاریں تیار کرنے والے ادارے نے ریاست میں اپنے پلانٹس پر سرگرمیاں معطل کردی ہیں کیونکہ مظاہرین نے وہاں تک خام مال اور دوسرے اجزاء آنے سے روک دیے ہیں۔شاہراہیں اور ریلوے ٹریک بند ہونے کے بعد لاہور اور دہلی کے درمیان چلنے والی دوستی بس سروس بھی عارضی طور پر معطل کردی گئی ہے اوربھارتی حکومت نے اندرون ملک مسافروں کے لیے اضافی پروازیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔