.

ترک فوج کی کارروائیوں میں 14 کرد باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک فوج نے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے خلاف کارروائیوں کے دوران چودہ کرد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

ترک فوج نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ کرد اکثریتی شہر دیاربکر کے علاقے سور میں ایک کارروائی میں چار کرد جنگجو مارے گئے ہیں۔دیاربکر کے بیشتر علاقوں میں دسمبر کے بعد سے چوبیس گھنٹے کا پولیس کرفیو نافذ ہے۔

دس کرد باغی شام کے ساتھ واقع صوبے سرناک کے ضلع عدیل میں اتوار کو ایک کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔اس ضلع کے بعض علاقوں میں بھی گذشتہ ہفتے سے چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ ہے۔

پی کے کے کے جنگجوؤں نے ملک کے جنوب مشرق میں بعض شہروں اور قصبوں پر قبضہ کررکھا ہے اور وہ وہاں مورچہ بند ہیں جس کے بعد سے ترک سکیورٹی فورسز نے بھی ان کے خلاف کارروائیاں تیز کررکھی ہیں۔

جولائی میں ترک حکومت اور کرد علاحدگی پسند جماعت پی کے کے کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں خونریزی جاری ہے۔کرد جنگجو آئے دن سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں جبکہ ترک فورسز ان کے خلاف بڑی کارروائی کررہی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مقامی گروپ ترک سکیورٹی فورسز کی کرد باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔کرد نواز جماعت ایچ ڈی پی کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں قریباً ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترک فوج نے اپنے بیان میں یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایک سرحدی قصبے چیزر میں پانچ کرد باغیوں کی لاشیں ملی ہیں۔ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پہلے کسی کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے۔اس قصبے میں بھی ترک فوج گذشتہ کئی ہفتوں سے باغیوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور وہاں سے چھاپا مار کارروائیوں کے دوران گھریلو ساختہ بم ،دستی بم ،رائفلوں اور گولہ بارود کی بڑی مقدار ملی ہے۔

ترکی نے پی کے کے کے علاوہ شامی کرد جماعت پیپلز پروٹیکشن یونٹس (پی وائی ڈی) کو بھی دہشت گرد قرار دیتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس گروپ کے کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ تعلقات ہیں۔امریکا نے حال ہی میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے شامی کردوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا جس پر ترکی نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔

ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں 1984ء سے جاری اس خونریزی میں پینتالیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔پی کے کے کا مؤقف ہے کہ وہ کردوں کو زیادہ حقوق اور خودمختاری دلانے کے لیے لڑرہی ہے۔ واضح رہے کہ ترکی اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پی کے کے کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے.