.

سعودی عرب اسلحے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک

بھارت اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک میں دوسرے اور پاکستان دسویں نمبر پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سال 2015ء میں دنیا بھر میں اسلحے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک رہا ہے۔اس کے بعد بھارت غیرملکی اسلحے کا دوسرا بڑا خریدار ہے اور پاکستان اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک میں دسویں نمبر پر رہا ہے۔

اسٹاک ہوم میں قائم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق بھارت 2014ء میں اسلحے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک تھا۔پاکستان نے 2015ء میں اسلحے کی درآمد پر ساڑھے تہتر کروڑ ڈالرز خرچ کیے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت نے تین ارب سات کروڑ اسی لاکھ ڈالرز مالیت کا اسلحہ درآمد کیا تھا۔

پاکستان نے گذشتہ سال کے دوران چین سے سب سے زیادہ مالیت کا اسلحہ خرید کیا تھا اور اس سے ساڑھے چھپن کروڑ ڈالرز مالیت کا اسلحہ درآمد کیا تھا۔اس کے بعد امریکا سے چھے کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالرز مالیت کا اسلحہ درآمد کیا تھا۔

پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات استوار ہیں اور وہ اس کے اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ملک بھی ہے۔اس نے چین کے کل برآمد کردہ اسلحہ میں سے پینتیس فی صد خرید کیا تھا۔اس کے بعد بنگلہ دیش اورمیانمر آتے ہیں۔

بھارت چین کے پاکستان کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات پر نالاں رہتا ہے اور اس نے اسی ماہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو آٹھ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت پر بھی اعتراض کیا تھا۔اس نے کہا تھا کہ ''ہم اس اسلحے کی منتقلی کے لیے منطق سے متفق نہیں ہیں کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی''۔

تاہم امریکا نے بھارت کے اس اعتراض کو مسترد کردیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ایف 16 لڑاکا طیاروں کو خطے کے استحکام اور انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کے مفاد میں منتقل کیا جارہا ہے۔

بھارت روسی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ملک ہے اور اس نے گذشتہ سال روس سے ایک ارب چھیانوے کروڑ چالیس لاکھ ڈالرز مالیت کا اسلحہ خرید کیا تھا۔اس کے بعد اسرائیل سے اکتیس کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالرز مالیت کا اسلحہ درآمد کیا تھا اور تیسرے نمبر پر امریکا سے تیس کروڑ بیس لاکھ ڈالرز مالیت کا اسلحہ درآمد کیا تھا۔

سپری کی رپورٹ کے مطابق چین نے گذشتہ پانچ سال کے دوران اسلحے کی برآمدات بڑھا کر دگنا کردی ہیں اور وہ اب دنیا میں اسلحہ برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔امریکا اور روس بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔چین دوسرے ممالک کو ہلکے اور بھاری ہتھیار اور اسلحہ برآمد کررہا ہے۔

امریکا نے 2015ء میں دس ارب اڑتالیس کروڑ چالیس لاکھ ڈالرز مالیت کا اسلحہ برآمد کیا تھا جبکہ روس نے اس ایک سال میں پانچ ارب اڑتالیس کروڑ تیس لاکھ ڈالرز مالیت کا اسلحہ برآمد کیا تھا۔ان دونوں ممالک کی اسلحے کی برآمدات کی شرح نمو بالترتیب 27 فی صد اور 28 فی صد رہی تھی۔ فرانس اور جرمنی اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک میں چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔

سپری کی رپورٹ کے مطابق چین اسلحے کا تیسرا بڑا برآمد کنندہ ملک ہونے کے باوجود ابھی تک خود بھی بڑے ٹرانسپورٹ طیارے ،ہیلی کاپٹرز ،طیاروں،بحری جہازوں اور گاڑیوں کے انجن درآمد کرتا ہے۔اس نے روس سے گذشتہ سال کے دوران فضائی دفاعی نظام اور دو درجن لڑاکا جیٹ خرید کرنے کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔