.

ٹرمپ کے منافرانہ بیانات مسلمانوں میں اشتعال کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#امریکا میں مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑنے والے ایک بڑے گروپ کا کہنا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی جنرل کی مسلمانوں کو سور کے خون میں بجھی گولیاں مارنے کی غیر تصدیق شدہ داستان سنانے سے مسلمانوں میں اشتعال پھیل سکتا ہے۔

امریکن اسلامک ریلشنز [کیئر] کے نیشنل ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نہاد عواد کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اشتعال انگیز بیان نے نفرت پھیلانے کی حد کو پار کر دیا ہے اور اس بیان کے نتیجے میں مسلمانوں کو مشتعل کیا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارتی مہم چلا رہے ہیں اور اس سے قبل بھی مسلمان اور تارکین وطن کے خلاف اپنے بیانات کی بدولت تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ انہوں نے سائوتھ کیرولائنا میں ایک ریلی کے دوران اپنے حالیہ بیان میں تشدد کے موجودہ طریقوں اور واٹر بورڈنگ کی حمایت کرتے ہوئے ایک غیر تصدیق شدہ کہانی سنائی جس میں فلپائن میں امریکی جنرل جان پورشنگ نے سنہ 1900ء کی دہائی میں مسلمانوں کے حملے روکنے کے لئے مبینہ طور پر سور کے خون میں بجھی گولیوں سے جواب دیا تھا۔