.

اقوام متحدہ نے ہوائی کارگو میں لیتھیم بیٹریوں پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہوائی سفر کے معیار طے کرنے والی اقوام متحدہ کی ذیلی ایجنسی نے مسافر جہازوں کے کارگو میں لیتھیم آئیون بیٹریاں رکھنے پر پابندی لگا دی ہے۔

"انٹرنیشنل سول ایویشن اتھارٹی" کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عارضی طور پر کیا گیا ہے جو کہ 2018ء میں نئے پیکیجنگ کے قوائد میں مستقل طور پر شامل کردیا جائے گا۔ لیتھیم آئیون کی بیٹریوں میں آگ لگ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے انہیں سیکیورٹی کے لئے خطرہ گردانا جاتا ہے۔

اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ اس فیصلے پر یکم اپریل سے عمل درآمد شروع ہوجائے گا اور اس میں مسافروں یا عملے کے لیپ ٹاپ کی بیٹریاں شامل نہیں ہوں گی۔

ایجنسی کی جانب سے یہ بین ممالک کو پابند نہیں کرتا ہے مگر اکثر ممالک ایجنسی کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ائیرلائنز اور پائلٹس ایسوسی ایشنز نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بیٹریوں کو جہازوں میں رکھںے کی پابندی کی درخواست کی تھی۔

اس سے قبل جنوری 2013ء میں دو واقعات رونما ہوئے تھے جس کے نتیجے میں لیتھیم آئیون بیٹریاں شدید گرم ہوگئی تھیں۔ پہلا واقعہ امریکی شہر بوسٹن میں ایک کھڑے جہاز میں پیش آیا جب کہ دوسرا دوسرا واقعہ جاپان کے ایک جہاز میں پیش آیا جسے ایمرجنسی لینڈنگ کرنا پڑی۔

اس ماہ کے اوائل میں بھی امریکا کی وفاقی ایویشن ایڈمنسٹریشن نے خبردار کیا کہ یہ بیٹریاں جہاز کے سامان والے حصے میں دھماکے سے پھٹ سکتی ہیں۔

لیتھیم آئیون بیٹریاں لیپ ٹاپ کمپیوٹرز اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں سمیت بہت سی جگہوں پر استعمال کی جاتی ہیں۔