.

جنرل علی محسن الاحمر یمنی فوج کے ڈپٹی کمانڈر مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے جنرل علی محسن الاحمر کو مسلح افواج کا ڈپٹی مقرر کیا ہے۔عسکری ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد دارالحکومت صنعا کے آس پاس کے علاقوں میں آباد قبائل اور فوجیوں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔صدر عبد ربہ منصور ہادی بہ ذات مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں۔

جنرل علی محسن الاحمر اس وقت سعودی عرب میں مقیم ہیں اور ان کے سنی اسلام پسندوں سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ان کے وفادار فوجیوں نے سنہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف مسلح بغاوت اور ان کی اقتدار سے رخصتی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اب علی صالح کے وفادار فوجی ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے ساتھ مل کر یمنی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔

صدر منصور ہادی نے 2013ء میں بااثر جنرل محسن الاحمر کو اپنا سکیورٹی مشیر مقرر کیا تھا۔عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ہادی صنعا کے علاقے سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین اور سینیر آرمی کمانڈروں کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ دارالحکومت سے حوثی باغیوں کو نکال باہر کیا جاسکے۔اس علاقے میں جنرل علی احمر کا کافی اثر ورسوخ ہے اور ان کا قبیلہ الاحمرشمالی یمن میں حاشید کنفیڈریشن میں بالادستی کا حامل رہا ہے۔

یمنی صدر نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب حکومت نواز فورسز دارالحکومت صنعا سے حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کا قبضہ ختم کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔حکومت نواز فورسز نے اسی ماہ کے اوائل میں صنعا سے چالیس کلومیٹر دور واقع قصبے نہم پر قبضہ کر لیا تھا اور باغیوں کے حامی ایک فوجی بریگیڈ کو شکست سے دوچار کیا تھا۔

درایں اثناء گذشتہ ایک ہفتے سے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے صنعا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف فضائی حملے تیز کررکھے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی یمنی تنازعے میں مداخلت کے بعد سے صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز نے حوثی باغیوں کو پانچ جنوبی صوبوں سے نکال باہر کیا ہے اور اس وقت مزاحمت کار صوبہ مآرب ،صنعا سے مشرق میں واقع علاقے اور سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع صوبے الجوف تک محدود ہو کررہ گئے ہیں۔