.

گوانتانامو بے جیل بند کرنے کا منصوبہ امریکی صدر کے روبرو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون منگل کے روز امریکی صدر باراک اوباما کو امریکی فوجی جیل گوانتانامو بے کو بند کرنے کا منصوبہ بالآخر پیش کردیں گے جس کے نتیجے میں اس پلان کے مخالفین نے بھی تیاری پکڑ لی ہے۔

صدر اوباما نے 2009ء میں اپنی مدت صدارت کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکا کے کیوبا میں قائم یہ بحری اڈے کی یہ جیل بند کردی جائے گی اور اب وہ اگلے سال جنوری میں اپنی مدت صدارت ختم ہونے سے پہلے اپنا وعدہ پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کا کہنا ہے کہ حکام منگل کی ڈیڈلائن سے پہلے ہی اس جیل کو بند کرنے کے منصوبے کو تفصیلاً پیش کریں گے۔ اس وقت بھی گوانتانامو بے میں 91 قیدی موجود ہیں۔ امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ "ہمیں اندازہ ہے کہ ڈیڈ لائن قریب ہے اور ہم اس سے قبل ہی اپنا کام مکمل کرلیں گے۔"

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت 35 کے قریب قیدیوں کو ٹرانسفر کرنے کی اجازت مل گئی ہے جنہیں ان کے آبائی ممالک اور دوسرے ممالک میں منتقل کردیا جائے گا جبکہ باقی قیدیوں کو امریکا منتقل کرکے انتہائی سیکیورٹی والی جیل میں رکھا جائے گا۔ امریکی کانگریس نے ان قیدیوں کو منتقل کرنے پر 2011ء سے پابندی لگا رکھی ہے۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق مجوزہ منصوبے میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ قیدیوں کے مقدمات کی سماعت کے لئے انہیں بیرون ملک بھیجا جائے۔

حکام کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات میں متبادل امریکی جیلوں کےنام نہیں لکھے گئے ہیں۔ حکام صدارتی انتخاب کے سال میں کسی سیاسی کشمکش کا حصہ نہیں بننا چاہتے ہیں۔

اس کے باوجود ذرائع کے مطابق پینٹاگون کے حکام نے فورینس کولوراڈو میں ایک وفاقی جیل، کینسس میں ایک فوجی جیل اور سائوتھ کیرولینا میں موجود بحریہ کی جیل کا دورہ کیا ہے۔

گوانتانامو بے جیل کو سنہ 2002ء میں سابق امریکی صدر جارج بش نے کھولا تھا تاکہ 11 ستمبر 2001ء کے الزام میں گرفتار غیر ملکی باشندوں کو رکھا جاسکے۔