.

"بشار الاسد کے جرائم رکوانے کے لئے دباؤ ڈالا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپیل کی ہے بشار الاسد حکومت اور انتہا پسند تنظیم 'داعش' کا مقدمہ بین الاقوامی جرائم عدالت یا خصوصی وار ٹریبیونل کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ ان سے شامی شہریوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کا بدلہ لے سکے۔

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے یو این جنرل اسمبلی سے شامی معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سیکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ شامی حکومت کے مظالم رکوانے کے لئے بشار الاسد حکومت پر دباؤ ڈالیں۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے گزشتہ روز اپیل کی تھی کہ شامی اپوزیشن کو طیارہ شکن میزائل فراہم کئے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس امر کا فیصلہ کرنا بین الاقوامی اتحاد کا استحقاق ہے۔

جرمن جریدے "ڈر سپیگل" سے خصوصی انٹرویو میں عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ "سمجھتے ہیں کہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی شامی اپوزیشن کو فراہمی سے میدان جنگ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کا اسلحہ شامی اپوزیشن کو لازما دیا جانا چاہئے۔

شام سے متعلق روسی پالیسی پر بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے بتایا کہ بشار الاسد کے لئے روسی امداد اور حمایت بہت دیر تک جاری رہے گی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ جنگ جاری رہے اور اس میں بالآخر بشارالاسد کو شکست کا سامنا کرنا پڑے۔