.

ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی نامزدگی سے ایک قدم کی دوری پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ریاست نیوادا میں اپنی جماعت کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔یہ ان کی مسلسل تیسری ریاست میں فیصلہ کن کامیابی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فتح پر جوش جذبات میں کَہ دیا ہے کہ ''ہم جیت رہے ہیں،جیت رہے ہیں،ملک جیت رہے ہیں اور بہت جلد ملک بھی جیتنا شروع ہوجائے گا''۔انھوں نے لاس ویگاس میں ایک اجتماع سے تقریر میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ بہت جلد صدارتی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ریاست نیوادا میں صدارتی نامزدگی کے لیے کاکس میں ووٹ ڈالنے والے ہر دس میں سے چھے افراد کا کہنا تھا کہ حکومت جس طریقے سے کام کررہی ہے،وہ اس سے نالاں ہیں۔ان میں سے قریباً نصف ناراض ووٹروں نے مسٹر ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اب ان کا یکم مارچ کو منگل کے روز نامزدگی کے لیے بارہ ریاستوں میں اپنے مخالفین سے مقابلہ ہوگا۔دوسری جانب ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن اپنے قریبی حریف سینیٹر برنئی سینڈرز کے مقابلے میں فیصلہ کن برتری کی خواہاں ہیں۔ان کے درمیان آیندہ منگل کو جنوبی ریاستوں میں کانٹے کا مقابلے ہوگا۔ان ریاستوں میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے سیاہ فام ارکان کی بھی بڑی تعداد موجود ہے اورتوقع ہے وہ افریقی نژاد امریکی سینڈرز کے حق ہی میں ووٹ دیں گے۔

نیوادا میں ری پبلکن پارٹی کے پرائمری انتخابات فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارکو روبیو اور ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹیڈ کروز کی مقبولیت کا امتحان تھے لیکن وہ دونوں ڈونلڈ ٹرمپ کے متبادل امیدوار کے طور پر ابھرنے میں ناکام رہے ہیں۔

دو اور ری پبلکن صدارتی امیدوار اوہائیو کے گورنر جان کیسچ اور ریٹائرڈ نیورو سرجن بن کارسن نیوادا میں کوئی نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں اور وہ صدارتی دوڑ میں باقی امیدوار سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

اب سینیٹر روبیو ریاست میشی گن میں کاکس کے نتائج پر اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں۔وہ یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے نالاں ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

وہ ریاست آئیوا میں تیسرے ،نیو ہیمپشائر میں پانچویں اور جنوبی کیرولینا میں دوسرے نمبر پر رہے تھے۔اب ان کی ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے آیندہ منگل کو بارہ ریاستوں میں ہونے والے پارٹی انتخابات میں کامیابی ضروری ہے۔روبیو کی حمایت میں حالیہ دنوں میں بہت سے سینیٹر اور گورنر بھی میدان میں آگئے ہیں۔

سینیٹر روبیو اور کروز نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں۔وہ شاید اس امید میں ایسا کررہے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک دستبرداری کی صورت ہی میں ٹرمپ کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔الیکشن کیلنڈر کے مطابق اگر مارچ کے وسط تک وہ ٹرمپ کا راستہ روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر شاید وہ ان کی صدارتی نامزدگی میں بھی حائل نہ ہوسکیں۔

واضح رہے کہ ایک ماہ قبل تک قریباً ایک درجن امیدوار ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی کے حصول کے لیے میدان میں تھے مگر اب ان کی تعداد صرف پانچ رہ گئی ہے۔سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے بھائی اور فلوریڈا کے گورنر جیب بش نے جنوبی کیرولینا میں شکست کے بعد صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔