.

اقوام متحدہ : شام میں جنگ بندی کی حمایت میں قرارداد پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان شام میں جنگی کارروائیاں روکنے سے متعلق سمجھوتے کی توثیق کے لیے ایک مجوزہ قرارداد کے مسودے پر غور کررہے ہیں۔

امریکا اور روس کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد شام میں جنگ بندی کا یہ سمجھوتا طے پایا ہے۔سلامتی کونسل میں متعیّن ایک سفارت کار کے بہ قول یہ دونوں ممالک اب مجوزہ قرارداد کے مسودے پر کام کررہے ہیں اور اس کو جمعہ کے روز منظور کیا جاسکتا ہے۔

اس سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس قرارداد میں شام میں جنگی کارروائیاں روکنے کا خیرمقدم کیا جائے گا۔شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا بھی جمعے کو سلامتی کونسل میں شام کی صورت حال سے متعلق اپنی ایک رپورٹ پیش کریں گے۔

روس اور امریکا نے جنگ بندی کے آغاز کی ڈیڈلائن دمشق کے معیاری وقت کے مطابق جمعہ کی نصف شب مقرر کی ہے اور گرینچ معیاری وقت کے مطابق 2200 (جی ایم ٹی) بجے صدر بشارالاسد کی حکومت اور باغی فورسز کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہوجائے گا۔

تاہم اس جنگ بندی کا اطلاق داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ پر نہیں ہوگا اور ان دونوں گروپوں کے خلاف شام میں روس اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے فضائی حملے جاری رہیں گے۔

سلامتی کونسل میں متعیّن ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ اگر شام میں جنگ بندی ہوجاتی ہے تو ڈی مستورا آیندہ ہفتے شام امن مذاکرات کے نئے دور کی میزبانی کریں گے اور ممکنہ طور پر چار مارچ کو شام کے متحارب فریقوں کو مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کی دعوت دیں گے۔اس دوران اقوام متحدہ کے تحت مختلف ادارے شام میں مختلف محاذوں پر جنگ سے متاثرہ افراد تک امدادی سامان پہنچا سکیں گے۔