.

لیبیا : داعش نے صبراتہ میں 17 افراد کو قتل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں سخت گیر دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) سے وابستہ جنگجوؤں نے مغربی شہر صبراتہ میں حملہ کرکے سترہ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔مقامی حکام کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے سکیورٹی فورسز کی ایک عمارت میں گھس کر گیارہ اہلکاروں کے سرقلم کر دیے ہیں۔

صبراتہ کی میونسپل کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقامی بریگیڈز سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے شہر سے جنوب میں پندرہ کلومیٹر دور واقع داعش کے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد ان کی داعش کے ساتھ لڑائی چھڑ گئی تھی۔

بیان کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے صبراتہ میں سکیورٹی خلاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دھاوا بولا تھا اور اس کے بعد وہ تمام شہر میں پھیل گئَے۔صبراتہ کے میئر حسین آل ثوادی نے بتایا ہے کہ منگل کی شب مقامی بریگیڈز کے چھے ارکان داعش کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے تھے۔اس کے بعد انھوں نے رات سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کی عمارت میں داخل ہوکر گیارہ ارکان کے سرقلم کردیے ہیں۔

اس واقعے کے بعد دارالحکومت طرابلس سے تعلق رکھنے والی انسداد دہشت گردی فورس نے اطلاع دی ہے کہ اس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے داعش کے تین سینیر لیبی ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔ان میں صبراتہ سے تعلق رکھنے والا داعش کا سینیر کمانڈر محمد سعد التجوری بھی شامل ہے۔

مغربی شہر الزنتن سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ حکام نے صبراتہ بریگیڈ کے داعش سے لڑائی میں زخمی ہونے والے ارکان کے علاج سے اتفاق کیا ہے اور یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ صبراتہ اور الزنتن سے تعلق رکھنے والی بریگیڈز اب داعش کے خلاف لڑائی میں ایک دوسرے سے تعاون کو تیار ہیں۔

ان دونوں شہروں پر متحارب گروپوں کا کنٹرول ہے۔الزنتن لیبیا کی طبرق میں قائم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ ہے جبکہ صبراتہ کی فورسز کا دارالحکومت طرابلس پر قابض فجر لیبیا کی حکومت کے ساتھ اتحاد ہے۔

صبراتہ کے مئیر ثوادی کا کہنا ہے کہ الزاویہ اور صرمان سمیت مختلف شہروں اور قصبوں نے داعش کے خلاف جنگ میں تعاون کی پیش کش کی ہے اور الزنتن اور دوسرے قصبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ صحرا سے آنے والی شاہراہوں کے ساتھ داعش کے جنگجوؤں کے سپلائی روٹس کو منقطع کردیں۔

امریکا کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ جمعے کو صبراتہ کے نواح میں داعش کے ایک تربیتی کیمپ پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم پچاس افراد مارے گئے تھے۔سربیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دو سرب سفارت کار بھی مارے گئے ہیں۔جنگجوؤں نے انھیں لیبیا میں نومبر میں اغوا کر لیا تھا۔گذشتہ تین ماہ میں امریکا کا لیبیا میں داعش پر یہ دوسرا فضائی حملہ تھا۔