.

امریکا اسلحہ کی فروخت کا عمل تیز بنائے :سینیٹر جان مکین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ری پبلکن سینیٹر جان مکین نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کو اسلحہ کی فروخت کی منظوری کا عمل بہتر بنائے اور اسلحے کے سودوں پر تیز رفتاری سے فیصلہ کیا جائے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسی طرح سست روی برقرار رہی تو امریکا اربوں ڈالرز کے یقینی سودوں سے محروم ہوتا چلا جائے گا۔

جان مکین سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چئیرمین ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ (محکمہ خارجہ) امریکا کے اتحادیوں اور شراکت داروں کی جانب سے اسلحے کی خریداری کی درخواستوں پر فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے میں بہت سست روی کا شکار ہیں۔انھیں امریکا کے دورے پر آنے والے وزرائے دفاع اس حوالے سے اکثر شکایات کرتے رہتے ہیں۔

جان مکین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں اس عمل کو بہتر اورمربوط بنانے کی ضرورت ہے ،موجودہ نظام کام نہیں کررہا ہے،اس کے لیے شاید قانون سازی کرنا پڑے گی۔ان ممالک کو کسی فیصلے سے آگاہ کیا جانا چاہیے خواہ یہ فیصلہ ہاں میں ہو یا ناں میں ہو''۔

انھوں نے بتایا کہ اس ضمن مں سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کسی بھی قسم کی قانونی ترمیم کی ذمے دار ہے کیونکہ وہی دوسرے ممالک کو اسلحے کی فروخت کی نگرانی کی ذمے دار ہے۔اس کمیٹی کے سربراہ سینیٹر باب کروکر بھی اسلحے کی فروخت میں تاخیر پر اپنی مایوسی کا اظہار کرچکے ہیں۔

جان مکین نے بتایا کہ سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور قطر نے حال ہی میں روس سے اربوں ڈالرز مالیت کے فوجی آلات خرید کیے ہیں جبکہ وہ امریکا کی جانب سے اسلحے کی فروخت کو حتمی شکل دینے کے منتظر ہی رہے ہیں۔

ان کا اس نیوزکانفرنس میں یہ بھی کہنا تھا کہ ''امریکا کو اسرائیل کی حمایت جاری رکھنی چاہیے''۔اسرائیل مشرق وسطیٰ کے ممالک کو امریکا کی جانب سے اسلحے کی فروخت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔حالیہ مہینوں کے دوران صہیونی قیادت نے امریکا کی ایران کے ساتھ جوہری ڈیل کی بھی شدید مخالفت کی تھی اور اس کو ایک تاریخی غلطی قرار دیا تھا۔

جان مکین اور دوسرے ارکان کانگریس نے خاص طور پر بوئنگ کمپنی کی جانب سے قطر کو ایف 15 لڑاکا جیٹ اور کویت کو ایف/اے 18ای/ایف کے سودے میں تاخیر پر خاص طور پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اوباما انتظامیہ مبینہ طور پر اسرائیل کے ساتھ ایک فوجی امداد کے سمجھوتے کو حتمی شکل دینے میں مصروفِ عمل ہے اور اس وجہ سے ان سودوں میں بھی تاخیر ہوئی ہے۔