.

امریکا داعش کے خلاف جنگ میں فتح یاب ہو گا: اوباما

شام میں مجوزہ جنگ بندی سے تنازعے کے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے اپنی سکیورٹی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ داعش کو تمام محاذوں پر شکست سے دوچار کرنے کے لیے امریکا کی قیادت میں مہم کو آگے بڑھائے۔ انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ شام میں مجوزہ جنگ بندی سے تنازعے کے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوگی اور داعش کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کی جاسکے گی۔

انھوں نے اس رائے کا اظہار امریکی محکمہ خارجہ میں اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں کیا ہے۔صدر اوباما کو ان کے قومی سلامتی کے مشیروں نے داعش کے خلاف جنگ اور شام میں قیام امن کے ضمن میں کوششوں کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔ان کے ساتھ اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری ،وزیردفاع ایش کارٹر ،اٹارنی جنرل لوریٹا لینچ اور دوسرے مشیر موجود تھے۔

انھوں نے کہا: ''میں نے اپنی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ اس مہم کو تمام محاذوں پر تیز کیا جائے۔اب ہم خیال ممالک آگے بڑھ رہے ہیں اور وہ داعش کو شکست دینے کے لیے مزید امداد کی پیش کش کررہے ہیں''۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ گذشتہ موسم گرما کے بعد سے داعش نے شام یا عراق میں کوئی ایک بھی بڑی کارروائی نہیں کی ہے۔شام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ہفتے کے روز سے ہونے والی شام میں جنگ بندی سے یہ توقع نہیں کرتے کہ اس سے فوری طور پر خونریزی اور جنگی کارروائیاں رک جائیں گی۔

امریکی صدر نے کہا کہ یہ جنگ بندی متحارب فریقوں کے لیے ایک امتحان ہے کہ آیا وہ ملک میں سیاسی انتقال اقتدار ،آزادانہ انتخابات کے انعقاد اور ایک نئے آئین کے لیے پُرعزم ہیں یا نہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ ''شام کے مستقبل میں بشارالاسد کی بطور صدر کوئی جگہ نہیں ہوسکتی''۔

انھوں نے کہا:'' ہمیں یقین ہے کہ لڑائی جاری رہے گی کیونکہ داعش ،النصرۃ محاذ اور دوسرے گروپ مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں''۔انھوں نے روس اور اسد حکومت سمیت اس کے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ سمجھوتے کے تحت اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں کیونکہ اب دنیا دیکھے گی۔