.

ایران میں پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں پارلیمانی انتخابات کے لیے آج جمعہ کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔

گذشتہ سال جولائی میں بڑی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں اور انھیں اعتدال پسند صدر حسن روحانی کی پالیسیوں کے لیے ریفرینڈم قرار دیا جارہا ہے۔

ایرانی ووٹر پارلیمان (مجلس شوریٰ) کی 290 نشستوں اور ماہرین کی اسمبلی (مجلس خبرگان) کی 88 نشستوں پر انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ مجلس خبرگان کو ملک کے سپریم لیڈر کو منتخب کرنے یا انھیں برطرف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

ملک بھر میں قریباً 53 ہزار پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں اور قریباً ساڑھے پانچ کروڑ ایرانی اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے دارالحکومت تہران میں اپنا ووٹ ڈالا ہے۔

ان انتخابات سے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جانے والے قدامت پرست سخت گیروں نے اعتدال پسندوں پر مغربی اثرات کے آگے جھکنے اور ملک کے دروازے اہلِ مغرب کے لیے کھولنے کے الزامات عاید کیے ہیں۔تاہم صدر حسن روحانی نے ان الزامات کو ایرانیوں کی ذہانت کی توہین قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

ایرانی صدر کی ویب سائٹ پر بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ:''زبانی گالم گلوچ ،الزامات اور توہین وتحقیر ایرانی قوم اور ملک کے وقار کے منافی ہے۔پارلیمان کی ایک نشست کے لیے اسلامی جمہوریہ اور حکومت کے وقار کو داؤ پر لگانا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ ہمیں الزام تراشی اور توہین آمیزی کے بجائے ارفع مقاصد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے''۔

یادرہے کہ قدامت پرستوں کی بالادستی کی حامل شورائے نگہبان نے صدر حسن روحانی کے حامیوں کا راستہ روکنے کے لیے ہزاروں اعتدال پسند امیدواروں کو مجلس شوریٰ اور مجلس خبرگان کا انتخاب لڑنے کا نااہل قرار دے دیا تھا۔اس لیے اب زیادہ تر قدامت پرست سخت گیروں کے حامی امیدوار ہی میدان میں ہیں۔