.

سعودیہ کی کامیاب سفارت کاری، ایران افریقا سےبے دخل!

ایرانی مداخلت پربات چیت کے لیے سعودی وزیرخارجہ کا دورہ افریقا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں چند ہفتے قبل سعودی عرب کے سفارت خانے اور قونصل خانے پربلوائیوں کے حملوں کے بعد افریقا کے ممالک نے تہران کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے۔ یہ تبدیلی جہاں ایران کی بلا جواز مداخلت کا نتیجہ ہے وہیں اس میں سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری کا بھی کلیدی کردار ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے چار افریقی ملکوں کا دورہ کیا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں ںے افریقی سیاسی قیادت سے عرب ممالک میں ایرانی مداخلت پر تفصیلی بات چیت کی۔

سعودی وزیرخارجہ نے افریقا کا دورہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب خطے میں ایران کے اثرو نفوذ میں غیرمعمولی کمی آئی ہے۔گذشتہ ایک عشرے کے دوران ایران نے چالاکی کے ساتھ افریقی ممالک کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کی تھی اور قرن افریقا کے 30 ملکوں میں اپنے سفارتی مشنوں کے اسٹیٹیس کو کئی درجے بڑھا دیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی رجیم نے افریقا میں مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی آڑ میں بالواسطہ اور براہ راست اپنا اثرو رسوخ بڑھابے کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کا یمن اور شام کی جنگ کی طرف متوجہ ہونے سے تہران کو افریقی ملکوں میں اپنے پاؤں پھیلانے کا موقع ہاتھ آگیا مگر سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری نے ایران کو افریقی ملکوں سے چلتا کردیا گیا ہے۔

سعودی عرب کےفرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سنہ 1970ء کےعشرے کے دوران شاہ فہد بن عبدالعزیز کی پالیسی کو اپناتے ہوئے افریقی ممالک میں اپنا اثرو رسوخ اور تعلقات بہتر بنانے پر توجہ دی ہے۔ شاہ فیصل مرحوم نے افریقی ممالک سے اس نہج پر تعلقات استوار کیے کہ اس کے نتیجے میں اسلامی تعاون تنظیم کے قیام اور اسے مزید موثر بنانے کا موقع ملا۔

افریقا سے تعلقات کی بہتری کے لیے جاری مساعی کے تحت سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے سوڈان اور اس کے بعد زامبیا کا دورہ کیا۔ انہوں نے ادیس ابابا میں افریقی یونین کی سربراہ قیادت سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

عادل الجبیر کا دورہ افریقا اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سعودی عرب کی قیادت میں تین درجن مسلمان ملکوں کے دہشت گردی کے خلاف ایک نئے اتحاد کی بنیاد رکھی ہے۔ دہشت گردی کی بیخ کنی میں افریقی ممالک بھی کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سعودی قیادت کے حالیہ افریقی دوروں سے قبل اور تہران میں سعودی سفارت خانے پرحملے کے بعد افریقی ملکوں میں ایران کے اثرو نفوذ میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا مگرافریقا کے بڑے عرب ملکوں سوڈان، جیبوتی، جزرالقمر اور کئی دوسرے ملکوں نے ریاض کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایران سےسفارتی تعلقات منطقع کرلیے تھے۔