.

سعودی عرب : حزب اللہ سے تعلق پر4 فرمیں اور 3 افراد بلیک لسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں چارکمپنیوں اور تین لبنانیوں پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے جمعہ کے روز وزارت داخلہ کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ ''سعودی مملکت تمام دستیاب وسائل اور ذرائع کے ساتھ نام نہاد حزب اللہ کی دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی''۔

وزارت داخلہ نے حزب اللہ سے وابستہ جن افراد اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ قراردیا ہے۔ان کے نام یہ ہیں:
1۔ فادی حسین سرحان ،لبنانی شہری ،سکونت: کفر کیلا ،تاریخ پیدائش یکم اپریل 1961ء
2۔ عادل محمد شری ،لبنانی شہری ،سکونت :بیروت ،تاریخ پیدائش 3 اکتوبر 1963ء
3۔علی حسن زعیتر ،لبنانی شہری ،سکونت لبنان ،تاریخ پیدائش 28 جولائی 1967ء
4۔ کمپنی وا ٹیک سارل ۔
5۔ لی ہوا الیکٹرانک فیلڈ کمپنی لیمیٹڈ
6۔ایرو سکائی ون کمپنی لیمیٹڈ
7۔ لبیکو سال آف شور کمپنی

سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے لبنانی فوج کے لیے تین ارب ڈالرز مالیت کی فوجی امداد بھی معطل کردی تھی اور اس نے یہ فیصلہ بیروت حکومت کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مشتعل ایرانی مظاہرین کے حملے کی مذمت نہ کرنے پر کیا تھا۔سعودی عرب کا کہنا تھا کہ لبنان نے کسی بھی فورم پر ایرانی کارروائیوں کی مذمت نہیں کی تھی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے پہلے بھی حزب اللہ کے متعدد سینیر عہدے داروں پر مشرق وسطیٰ بھر میں طوائف الملوکی اورعدم استحکام پھیلانے سے متعلق سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے الزامات میں پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ''حزب اللہ کی لبنان کی سرحد سے باہر ''شرپسندانہ'' سرگرمیوں کے الزام میں یہ پابندیاں عاید کی گئی ہیں''۔ لبنانی ملیشیا شامی صدر بشارالاسد کی اہم اتحادی ہے۔وہ شامی تنازعے میں اہم کردار ادا کررہی ہے اور اس کے جنگجو اسدی فوج کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔

وزارت داخلہ نے قراردیا تھا کہ''جب تک حزب اللہ افراتفری اور عدم استحکام پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔دنیا بھر میں دہشت گردی کے حملے کرتی رہتی ہے اور مجرمانہ اور غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھتی ہے تو سعودی عرب بھی اس کے لیڈروں ،کارکنان اور اداروں کو دہشت گرد قرار دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا''۔

یادرہے کہ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے مارچ 2014ء میں ملک اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والی متعدد تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور مصر کی اخوان المسلمون بھی شامل تھی۔ سعودی مملکت کے قوانین کے تحت دہشت گرد قرار دیے گئے حزب اللہ کے عہدے داروں کے اثاثے منجمد کر لیے گئے تھے اور سعودی شہریوں پر ان کے ساتھ کسی قسم کے لین دین پر پابندی ہے۔