.

لیبیا میں فرانسیسی فورسز کی موجودگی سے انکار

بنغازی میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی سے متعلق متحارب حکومتوں کے متضاد بیانات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے ان رپورٹس کی تردید کردی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ فرانس کے خصوصی دستے جنگ زدہ ملک میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں جبکہ طرابلس میں قائم حکومت نے دو روز پہلے ان کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔

طبرق حکومت کے ترجمان حاتم العریبی نے سرکاری خبررساں ایجنسی لانا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''تسلیم شدہ حکومت نے نہ تو غیرملکی فورسز کو لیبیا کی سرزمین میں داخلے کی اجازت دی ہے اور نہ وہ یہ اجازت دے گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''لیبیا کی مسلح افواج میں شامل ہمارے بہادر فوجیوں نے عالمی برادری کی کسی قسم کی مدد کے بغیر بن غازی کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرا لیا ہے''۔

فرانسیسی اخبار لی موندے نے بدھ کو ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ فرانس کی داخلی سکیورٹی سروس ڈی جی ایس ای کے خصوصی دستے لیبیا میں موجود ہیں اور وہ داعش کے خلاف خفیہ کارروائیاں کررہے ہیں۔

اس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ نومبر میں جس فضائی حملے میں لیبیا میں داعش کا لیڈر ابو نبیل مارا گیا تھا،وہ حملہ پیرس ہی نے کیا تھا۔اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد فرانس میں خفیہ اطلاع کے افشاء کی تحقیقات شروع ہوگئی ہے۔

جب طبرق حکومت کے ترجمان العریبی سے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ ''ہم ان رپورٹس کی تردید کرتے ہیں۔یہ درست نہیں ہیں''۔

لانا نے لیبی فوج کی خصوصی فورسز کے کمانڈر وینس بخامدہ کا بھی ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''بن غازی میں دہشت گردی کے خلاف صرف لیبی فورسز نے جنگ لڑی ہے''۔

تاہم بدھ کے روز طرابلس میں قائم فجر لیبیا کی حکومت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بن غازی میں فرانس کے خصوصی دستوں نے لڑائی کی قیادت کی ہے۔عالمی برادری اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

فرانس اور دوسرے مغربی ممالک میں لیبیا سے داعش کو نکال باہر کرنے کی غرض سے فوجی کارروائی کے لیے اتفاق رائے پایا جاتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے لیبیا میں قومی اتحاد کی ایک حکومت قائم ہونی چاہیے اور وہی بین الاقوامی فورسز کو ملک میں داعش کے خلاف کارروائی کی دعوت دے۔

لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں۔طرابلس میں اسلامی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کی حکومت ہے لیکن اس حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے دفاتر مشرقی شہر طبرق میں قائم ہیں مگر ان دونوں حکومتوں کے زیر قبضہ چند ایک بڑے شہر اور قصبے ہیں۔

داعش اور دوسرے گروپوں نے ملک کے مختلف شہروں پر قبضہ کرکے وہاں اپنی اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔داعش کا سابق صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت پر قبضہ ہے اور وہ دوسرے شہروں کی جانب بھی پیش قدمی کی کوشش کررہے ہیں۔