.

’روحانی، رفسنجانی کو انتخابات سے باہر رکھنے کی ہدایت‘

سپریم لیڈر کا صوتی بیان سوشل میڈیا پر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران میں پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی #خامنہ_ای کا ایک صوتی پیغام بھی گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے صدر #حسن_روحانی اور سابق صدر علی اکبر #ہاشمی_رفسنجانی کی گارڈین کونسل کے #انتخابات میں کامیابی روکنے کی ہدایت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر کا یہ متنازع نوعیت کا بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

فارسی زبان میں خبریں شائع کرنے والے ’’روز آن لائن‘‘ ویب پورٹل نے بھی مبینہ طور پر سپریم لیڈر کا پیغام نشر کیا ہے۔ یہ پیغام ’’عماریون‘‘ نامی ایک گروپ کو پہنچایا گیا جس کے سربراہ #پاسداران_انقلاب کے ملٹری انٹیلی جنس چیف حسین طائب کے بھائی مہدی طائب کررہے ہیں۔ اس بیان میں عمار نامی ایک شخص کو ’’ٹیلی گرام‘‘نیٹ ورک پر بات کرتے سنا جاسکتا ہے۔ عمار جو کہ فرضی نام معلوم ہوتا ہے، کا کہنا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے ہدایت کی ہے کہ صدر روحانی اور سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کو گارڈین کونسل کی رکنیت حاصل کرنے سے روکا جائے اور ان کی جگہ آیت اللہ اختری جیسے نمائندوں کی کامیابی یقینی بنائی جائے۔

عمار کا مزید کہنا ہے کہ روحانی اور رفسنجانی کی کامیابی انگریز کے ایجنٹوں کی فتح تصور کی جائے گی۔ ان کا اشارہ سپریم لیڈر کے اس سابقہ بیان کی جانب تھا جس میں انہوں ںے برطانیہ اور امریکا پر شام میں پارلیمانی انتخابات میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا۔

عمار نامی ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ مرشد اعلیٰ گارڈین کونسل میں ہاشمی رفسنجانی کی کامیابی کو موجودہ ایرانی نظام حکومت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر روحانی اور رفسنجانی جیسے لوگ گارڈین کونسل میں آئے تو ایران عالمی اور علاقائی سطح پر اپنا اثرو نفوذ کھو دے گا۔

مرشد اعلیٰ جہاں رفسنجانی اور روحانی کو ملک کے طاقت ور فیصلہ ساز اور دستوری ادارے گارڈین کونسل سے دور رکھنا چاہتے ہیں وہیں وہ اپنے مقربین محافظ دستوری کونسل کے سیکرٹری جنرل احمد جنتی، آیت اللہ مصباح اور محمد یزدی جیسے بنیاد پرست رہ نماؤں کی کامیابی یقینی بنانے کے خواہاں ہیں۔

صوتی پیغام میں کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر ہاشمی رفسنجانی پرسخت برہم ہیں اور ان کی کامیابی کو ایران کے اندر طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں دستوری کونسل کے ارکان کی تعداد 88 ہے۔ کونسل کے ارکان کا چناؤ آٹھ سال کے لیے براہ راست عوامی ووٹوں سے کیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ سپریم لیڈر [ولی القفیہ] کو منتخب کرنے کا مجاز ہے۔ منتخب سپریم لیڈر کو اقتدار اعلیٰ کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور اسے تمام اختیارات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔