.

یمن : تعز شہر میں طبی سامان اتارے جانے کی تصاویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحادی افواج کی جانب سے جاری کی جانے والی نئی تصاویر میں تعز شہر میں امدادی اور طبی سامان اتارنے کے آپریشن کو دکھایا گیا ہے۔ حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں نے ایک ماہ سے تعز کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

اتحادی افواج اور کنگ سلمان ہیومنیٹیریئن ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے گزشتہ ماہ چالیس ٹن طبی اور امدادی سامان اتارنے کی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد تعز کے محاصرے کو توڑنا، شہر کی آبادی کو درپیش مسائل میں کمی لانا اور بنیادی لوازمات کے ذریعے طبی سہولیات کو سپورٹ کرنا ہے تاکہ خدمات کا سلسلہ جاری رہنے کو یقینی بنایا جاسکے۔

تعز کے باسی اس وقت شہر پر مسلط محاصرے کے ہتھوڑے اور حوثی اور معزول صدر کی ملیشیاؤں کی جانب سے داغے جانے والے اندھادھند میزائلوں کے سندان کے بیچ زندگی گزاررہے ہیں۔ اندھادھند بمباری میں الحصب، المدینہ القدیمہ اور ثعبات کے علاقوں سمیت شہر کے مختلف محلوں کے علاوہ جبل حبشی کے علاقے میں کئی دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں 3 شہری جاں بحق اور 6 زخمی ہوگئے۔

تعز کا محاصرہ کرنے والی ملیشیاؤں کو شہر میں موجود سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

تعز شہر کے مغرب میں واقع گورنری جبل حبشی کے کئی علاقوں میں ایک طرف سے سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں اور دوسری طرف سے باغی ملیشیاؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ تعز کے علاقوں الحصب، المرور اور البعرارہ میں سرکاری فوج نے باغیوں کے حملوں کو پسپا کرتے ہوئے بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اتحادی طیاروں کی بمباری اور جھڑپوں میں کم از کم 11 باغی مارے گئے۔

اتحادی طیاروں نے تعز شہر میں باغیوں کے ٹھکانوں، مجمعوں اور گاڑیوں کے علاوہ تعز کے جنوب مشرق میں واقع علاقے دمنہ خدیر اور الشریحہ کے محاذ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔

ادھر حجہ صوبے میں اتحادی افواج کے بحری جنگی جہازوں نے عبس گورنری میں بریگیڈ 25 کے کیمپ پر بمباری کی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ متعدد مقامات پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جو لگتا ہے کہ حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کے زیراستعمال کاٹیوشا راکٹوں کے مبینہ لانچنگ پیڈز اور دیگر ہتھیاروں کی جگہ پر ہوئے۔