.

الشیخ عائض القرنی فلپائن میں فائرنگ سے زخمی

سعودی سکالر کے متعدد مصاحبین کے ہلاک ہونے کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نامور مگر متنازع اسلامی اسکالر شیخ عائض القرنی فلپائن میں فائرنگ کے ایک واقعے میں زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ان کے متعدد ساتھیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ زانبوآنگا شہر میں لیکچر دے کر فارغ ہوئے تھے۔

الشیخ عائض نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر حادثے سے چند لمحے قبل پیغام دیا تھا کہ "کسی سے اس کے درجہ ایمان کے بارے میں سوال نہ کیا جائے، خود سے پوچھا جائے کہ تم نماز ، ذکر، قرآن کی صحبت کا کتنا اہتمام کرتے ہو۔ نیز اپنی زبان اور دل کے حفاظت کتنی کرتے ہو۔

حادثے سے سات گھنٹے قبل عائض القرنی نے ٹویٹر پر ایک اور پیغام میں لکھا تھا "اگر اللہ آپ کو مزید ایک دن زندگی بخشے تو اس نعمت پر شکر ادا کریں اور سارے دن کو اس کی اطاعت میں گزاریں"

الشیخ عائض القرنی سعودی عالم دین مملکت کی جنوبی گورنری بلقرن کے آل شریح گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ حدیث نبوی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے علاوہ متعدد کتابوں کے مصنف اور مبلغ ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی وزارت اطلاعات ونشریات کی مؤلف حقوق کمیٹی نے ممتاز عالم دین شیخ عائض القرنی کو انٹلکچوئیل پراپرٹی رائٹس کی خلاف ورزی پر گزشتہ جنوری میں تین لاکھ 30 ہزار ریال جرمانے کی سزا کا حکم دیا تھا۔ کمیٹی نے شیخ عائض القرنی کی محل نزاع کتاب "لا تیاس" کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے مارکیٹ سے اس کے تمام نسخے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

شیخ عائض القرنی کےخلاف جرمانے کی یہ سزا سعودی خاتون مصنفہ سلویٰ العضیدان کی جانب سے دائر ایک مقدمہ پر کارروائی کرتے ہوئےسنائی گئی ہے۔ عائد کردہ جرمانے میں سے تیس ہزار ریال عمومی حقوق کی خلاف ورزی جبکہ تین لاکھ ریال سلویٰ کے دائر دعوے پر ادا کرنے کو کہا گیا ہے۔

سلویٰ العضیدان نے الزام عائد کیا تھا کہ شیخ عائض القرنی نےاپنی کتاب "لا تیاس" کی تالیف میں اس کے مضامین اور کتابوں سے مواد بغیر کسی حوالے کے نقل کیا۔ وزارتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ عائض القرنی کی تصنیف "لاتیاس" کے مملکت سعودی عرب میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔