.

"اللہ نے مجھے بچی ذبح کرنے کا حکم دیا"

ماسکو میں بچے کا گلہ کاٹنے والی آیا کا گمراہ کن واہمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#روس میں ایک چار سالہ بچی کو بغیر کسی وجہ کے قتل کرکے مقتولہ کا سر ہاتھ میں لہراتے ہوئے بس کے اڈے پر کھلے عام گھومنے اور ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگانے والی خاتون ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ یہ خاتون کون ہے اور اس نے اپنی زیر نگرانی چار سالہ بچی کو کیوں قتل کیا؟ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس رپورٹ میں انہی سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

رُوس اورعالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق چارسال کی بچی کو قتل کرکے اس کا سر ہاتھ میں اٹھا کر لہرانے والی خاتون کی شناخت ’گیولشیرا ببوکیولوفا‘ کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 38 برس اور تعلق ازبک قوم سے ہے۔ وہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے ایک چار سالہ بچی ناسٹایا کی دیکھ بحال پر مامور تھی۔

گذشتہ ہفتے کے روزجب بچی کے والدین کسی کام سے گھر سے باہر گئے تو اس سفاک آیانے گوشت کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والے ٹوکے کی مدد سے بچی کا سرتن سے جدا کردیا۔ مقتول کی لاش ایک بیگ میں ڈالی، اس کے فلیٹ کو آگ لگائی اور اس کا سرہاتھ میں لہراتے ہوئے سڑک پرنکل آئی اور "اللہ اکبر "کے نعروں کے ساتھ ساتھ خود کش دھماکوں کی دھمکی دینے لگی۔ اسے دیکھ کر لوگ خوف زدہ ہوگئے اور فوری طورپر پولیس کو اطلاع دی گئی۔

مکان کو لگی آگ نے آس پاس کے گھروں کو بھی لپیٹ میں لے لیا تاہم فائربریگیڈ کے عملے نے جلد ہی آگ پرقابو پالیا۔

رپورٹ کے مطابق جب والدین کواپنی بچی کے ساتھ پیش آئے واقعے کا علم ہوا تو وہ گھرکی طرف بھاگے مگر اس دوران مقتولہ کی ماں کی حالت غیر ہونے پراسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ آخری اطلاعات تک وہ اسپتال ہی میں تھی۔

پولیس نے عینی شاہدین کی مدد سے قاتل خاتون کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کی کارروائی کے وقت بھی اس نے اپنے چہرے کو نقاب سے چھپا رکھا تھا مگراس کے ہاتھوں میں بچی کا تن سے جدا کیا گیا خون آلود سر موجود تھا اور وہ دھماکوں کی دھمکی بھی دے رہی تھی۔

دوران تفتیش قاتلہ خاتون نے کم سن بچی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا اور کہا کہ اس نے یہ اقدام اپنے شوہر کی بددیانتی کے انتقام میں کیا مگر اس کے اس بیان کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ انٹرفیکس نیوزایجنسی کے مطابق قاتلہ پرماضی میں منشیات استعمال کرنےکا شبہ بھی ہے۔ اس کا نفسیاتی معائنہ بھی کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ وہ کہیں ذہنی یا نفسیاتی عوارض کا شکار تونہیں ہے۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی فوٹیج دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک میں اسٹایا کو ذبح کرنے والی خاتون کو بچی کا کٹا ہوا سر لہراتے اور نعرے لگاتے دکھایا گی ہے جب کہ دوسری فوٹیج میں اسے پولیس کی حراست میں دکھایا گیا ہے۔