.

فلپائن: سعودی عالم الشیخ عائض القرنی پر حملے کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن میں حکام معروف سعودی عالم دین شیخ عائض القرنی پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کررہے ہیں۔ان پر گولی چلانے والے مشتبہ حملہ آور کو موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا اور دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

شیخ عائض القرنی اور ایک سعودی سفارت کار ترکی اصائغ پر منگل کے روز فلپائن کے ساحلی شہر زیمبو آنگا میں ایک جامعہ کے آڈیٹوریم سے نکلتے ہوئے فائرنگ کی گئی تھی جس سے وہ دونوں زخمی ہوگئے تھے۔شیخ عائض القرنی اس جامعہ میں ایک لیکچر دینے کے لیے گئے تھے۔

ان کی حفاظت پر مامور فلپائنی پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کرنے والے حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کردیا تھا اور اس کے دو مشتبہ ساتھیوں کو فرار ہونے کی کوشش کے دوران پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔اب ان سے مزید پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔

مقامی چینل مینساہ ٹی وی نے واقعے کی فوٹیج نشر کی ہے۔اس میں ہجوم سے ایک مسلح شخص نکل رہا ہے اور جونہی شیخ عائض کار میں بیٹھنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو وہ ان پر قریب سے گولی چلا دیتا ہے۔

پولیس کی ترجمان چیف انسپکٹر ہیلن گالویز نے بتایا ہے کہ اس کے بعد مسلح شخص کار کے دوسری جانب گیا تھا اور اس نے سعودی سفارت کار پر بھی گولی چلادی تھی۔

فلپائنی پولیس کی رپورٹ کے مطابق شیخ عائض القرنی کے دائیں کندھے ،بائیں بازو اور سینے میں گولیاں لگی ہیں جبکہ منیلا میں سعودی سفارت خانے میں متعی٘ن مذہبی اتاشی اسائغ کو دائیں کولھے اور بائیں ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں۔