.

ماحولیات اور معیشت میں اوباما کا ساتھ دیں: بن لادن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ تنظیم کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن نے اپنے ایک خط میں امریکی عوام پر زور دیا کہ وہ "پر آفت" ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے اور "انسانیت کو بچانے کے لیے" صدر باراک اوباما کی مدد کریں۔ اس تحریر سے ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے بن لادن کے اندیشوں کا ثبوت ملتا ہے۔

یہ خط منگل کے روز اوباما انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے دستاویزات میں شامل ہے۔ ان دستاویزات کو 2 مئی 2011 کو القاعدہ سربراہ کو قتل کرنے کے آپریشن کے بعد پاکستان میں ان کے کمپاؤنڈ سے قبضے میں لیا گیا تھا۔

یہ خط جس پر کوئی دستخط اور تاریخ نہیں ہے اور اس کا عنوان "امریکی عوام کے لیے" ہے. امریکی انٹیلجنس کے ذمہ داران نے اس کو بن لادن سے منسوب کیا ہے۔ خط کے متن میں جن واقعات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط 2009 میں اوباما کے صدارت سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے کے بعد لکھا گیا۔

القاعدہ کے سربراہ کی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے دلچسپی مئی 2015 میں منظرعام پر لائے جانے والے خفیہ دستاویزات کی پہلی کھیپ میں سامنے آئی تھی۔

منگل کے روز جاری ہونے والے خط میں اسامہ بن لادن نے امریکا میں 2007-2008 میں آنے والے مالی بحران کا ذمہ دار سرمائے کے کارپوریٹ کنٹرول اور دباؤ ڈالنے والی تجارتی جماعتوں کے علاوہ امریکا کے زیرقیادت عراق اور افغانستان کی جنگوں کو ٹھہرایا۔

بن لادن نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ امریکی صدر کو اس اثرورسوخ سے آزاد کرانے کے لیے ایک عظیم انقلاب برپا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح اوباما انسانیت کو مضر گیسوں سے بچانے کے لیے دانش مندانہ فیصلہ کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

اسی دوران ایک دوسرے خط میں بن لادن نے اپنے ایک قریبی معاون پر زور دیا کہ وہ 11 ستمبر کے حملوں کے 10 سال پورے ہونے پر ذرائع ابلاغ میں ایک مہم چلائیں جس میں عالمی حرارت میں اضافے کا سبب بننے والی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کی اپیل شامل ہو۔

اسامہ بن لادن نے باور کرایا کہ دنیا کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اسلام کے خلاف جنگ چھیڑنے کے بجائے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف برسرجنگ ہوں۔