.

ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی دوڑ میں سب سے آگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے لیے کل کا روز ''سپر ٹیوز ڈے'' ثابت ہوا ہے۔انھوں نے صدارتی نامزدگی کے لیے گیارہ ریاستوں میں سے سات ،سات میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور اپنے حریفوں کو صدارتی دوڑ میں کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

منگل کے روز گیارہ ریاستوں میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے اپنے اپنے صدارتی امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے تھے۔ان میں جیت کے بعد اب یہی لگ رہا ہے کہ نومبر میں ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ ہی صدارتی انتخاب میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔

شعلہ بیان قدامت پرست ری پبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز اپنی آبائی ریاست ٹیکساس اور اوکلاہوما اور الاسکا میں پرائمریز جیتنے میں کامیاب رہے ہیں اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مرکزی حریف کے طور پر ابھرنے کی کوشش میں ہیں۔ہلیری کلنٹن کے واحد حریف سینیٹر برنئی سینڈرس بھی اوکلاہوما اور اپنی آبائی ریاست ورمونٹ سمیت چار ریاستوں میں جیت گئے ہیں۔

سینیٹر ٹیڈ کروز کو صدارتی دوڑ میں شامل رہنے کے لیے ریاست ٹیکساس میں کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔وہی واحد ری پبلکن امیدوار ہیں جو مسٹر ٹرمپ کو کسی بھی پرائمری مقابلے میں شکست سے دوچار کرسکتے ہیں۔جنوبی ریاستوں میں ٹرمپ کی کامیابی ان کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے۔البتہ وہ اب بھی مسٹر ٹرمپ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہیں کیونکہ انھوں محض 35 فی صد ہی ووٹ حاصل کیے ہیں اور باقی ریاستوں میں ان کی یہ کامیابی ختم بھی ہوسکتی ہے۔

شعلہ بیان ڈونلڈ ٹرمپ کے متبادل کے طور پر ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی کے خواہاں مارکو روبیو کے لیے منگل کی رات مایوس کن رہی ہے۔ری پبلکن پارٹی کے سرکردہ عہدے دار بھی ان کی حمایت میں میدان میں اترے تھے لیکن اس کے باوجود وہ ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔اب انھیں اپنی آبائی ریاست فلوریڈا میں کامیابی کی امید ہے جہاں 15 مارچ کو پارٹی اراکین صدارتی امیدواروں کی نامزدگی کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست ورجینیا ،آرکنساس ،الاباما ،میسا چیوسٹس ،ٹینی سی ،ورمونٹ اور جارجیا میں منگل کی رات کامیابی حاصل کی ہے۔سابق صدر بل کلنٹن کی اہلیہ ہلیری نے ٹیکساس ،آرکنساس ،الاباما ،ٹینی سی ،جارجیا اور ورجینیا میں کامیابی حاصل کی ہے۔ان جنوبی ریاستوں میں سیاہ فام ووٹر مکمل طور پر ان کی حمایت کررہے ہیں۔