.

لیبی فورسز کی صبراتہ میں کارروائی، 7 داعشی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مغربی شہر صبراتہ کے نواح میں سکیورٹی فورسز نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ایک ٹھکانے پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں سات جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

لیبیا میں داعش سے وابستہ جنگجوؤں نے بعض دوسرے شہروں کی طرح صبراتہ پر بھی قبضے اور اپنی عمل داری قائم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انھیں طرابلس حکومت سے وابستہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔انھوں نے گذشتہ ہفتے شہر میں ایک سرکاری عمارت پر دھاوا بول کر دس فوجیوں کے سرقلم کردیے تھے۔

صبراتہ کی ملٹری کونسل کے ترجمان صبری کشادہ نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شہر سے بیس کلومیٹر جنوب میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ان کا جنگجوؤں سے آمنا سامنا ہوا تھا اور پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ کارروائی کے دوران تین مشتبہ جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ ایک شامی جنگجو اور ایک تیونسی خاتون کو تین سالہ بچے سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

قبل ازیں کشادہ نے بتایا تھا کہ گذشتہ ہفتے سے داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں مقامی بریگیڈز کے چھیالیس ارکان مارے جاچکے ہیں۔تاہم انھوں نے جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی اور صرف یہ کہا تھا کہ ان کا بھی بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شہر میں صورت حال بہتر ہے اور ریاستی دفاتر آیندہ چند روز میں کھل جائیں گے۔

ادھر مشرقی شہر بنغازی میں جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں چار فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔طبرق حکومت کے تحت لیبی فوج کے کرنل عبداللہ الشافعی نے شہر کے جنوب مغرب میں واقع علاقے غریونس میں جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد پیش قدمی کی اطلاع دی ہے۔

ایک میڈیکل ذریعے کا کہنا ہے کہ لڑائی میں پانچ افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔گذشتہ دس روز کے دوران لیبیا کی مشرقی حکومت کی وفادار فورسز نے بنغازی میں نمایاں پیش قدمی کی ہے اور میدان جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔شہر میں سرکاری فوج اور اسلامی جنگجو گروپوں کے درمیان گذشتہ کئی مہینوں سے قبضے کے لیے لڑائی ہورہی ہے۔

لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں۔طرابلس میں اسلامی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کی حکومت ہے لیکن اس حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے دفاتر مشرقی شہر طبرق میں قائم ہیں مگر ان دونوں حکومتوں کے زیر قبضہ چند ایک بڑے شہر اور قصبے ہیں۔

داعش اور دوسرے گروپوں نے ملک کے مختلف شہروں پر قبضہ کرکے وہاں اپنی اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔داعش کا سابق صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت پر قبضہ ہے اور وہ دوسرے شہروں کی جانب بھی پیش قدمی کی کوشش کررہے ہیں۔