.

ٹرامپ کو دھمکی پرمصری طالبعلم خلاف کارروائی

عماد الدین کو مقدمے میں امریکا بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#امریکا میں ہوابازی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آنے والے ایک مصری طالبعلم کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر امریکی صدارتی دوڑ میں شرکت کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرامپ کو دھمکیاں دینے کے الزام میں تحقیقات کا سامنا ہے اور اسے ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ عمادالدین السید ہوا باز بننے کا شوق لے کر امریکا آئے تھے مگر اب انہیں ڈی پورٹ ہونے کا خطرہ درپیش ہے۔ ان کے مقدمہ کی سماعت امریکی ریاست لاس اینجلس کی امیگریشن کی عدالت میں ہورہی ہے۔

امریکی خفیہ سروسز کے اہلکاروں نے ماہ فروری کے اوائل میں شائع کی جانے والی اس پوسٹ پر السید کا انٹرویو کیا تھا اور پھر آٹھ دن بعد انہیں مطلع کیا گیا کہ اس دھمکی پر ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا رہا ہے مگر ان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اس اقدام کے بعد انہیں 12 فروری کو حراست میں لے لیا گیا اور وہ اسی وقت سے امیگریشن حکام کی حراست میں ہیں۔

السید کی وکیل ہانی بشریٰ کے مطابق انہوں نے لکھا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرکے عمر قید کاٹنے کو تیار ہیں اور اگر انہوں نے ایسا کر دیا تو یہ دنیا ان کی مشکور ہو گی۔

السید کا کہنا ہے کہ وہ ریپبلکن امیدوار کی جانب سے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگانے کی بات کرنے پر رنجیدہ تھے مگر ان کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔

ڈونلڈ ٹرامپ امریکا میں صدارت کے لئے ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی مہم کے دوران کئی متنازع بیان دے چکے ہیں جن میں تارکین وطن کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ صاحب امریکا کے میکسیکو کے ساتھ موجود بارڈر پر دیوار قائم کرنے کا وعدہ اور مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر عارضی پابندی لگانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ السید کو امریکا میں داخلے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ ایجنسی نے ان شرائط کے حوالے سے مزید وضاحت نہیں کی۔ ہانی بشریٰ کے مطابق امیگریشن حکام کو اس پوسٹ کے حوالے سے السید کے ادارے "یونیورسل ائیر اکیڈمی" نے مطلع کیا تھا۔

فلائٹ سکول کے مالک ایلکس خطیب کا کہنا ہے کہ انہیں اس معاملے کا اس وقت تک اندازہ ہوا جب وفاقی اداروں کے حکام عماد کا انٹرویو لینے اور بعد میں انہیں حراست میں لینے آئے تھے۔