.

''تارکینِ وطن پُرخطر سفر کرکے یورپ آنا بند کردیں''

یورپی ممالک بحران سے نمٹنے کے لیے یک طرفہ اقدامات سے گریز کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی کونسل کے صدر ڈونلڈ تسک نے غیرقانونی معاشی تارکین وطن سے کہا ہے کہ وہ اپنی جانوں اور رقم کو خطرے میں ڈال کر یورپ کے ''بغیر مقصد'' پُرخطر سفر سے گریز کریں۔ساتھ ہی انھوں نے یورپی یونین کے رکن ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے یک طرفہ اقدامات سے گریز کریں۔

ڈونلڈ تسک نے انقرہ میں ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو اور ایتھنز میں یونانی وزیراعظم الیکسس سپراس سے تارکین وطن کے بحران پر بات چیت کی ہے۔اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ''ان کا حتمی مقصد ترکی سے سمندر کے راستے تارکین وطن کی یونان آمد کا سلسلہ روکنا ہے''۔

انھوں نے انقرہ میں وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''یہ تعداد کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک مستقل عمل ہے اور میرے نزدیک اس کا مطلب اس افسوس ناک مظہریت کا مکمل خاتمہ ہے''۔ان کا اشارہ پُرخطر راستوں سے یونان جانے والوں کو روکنے کی جانب تھا۔

قبل ازیں یونان میں انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کوئی بھی مہاجر نہیں ہے تو اس کو یورپ کا رُخ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔میں تمام ممکنہ معاشی تارکین وطن سے یہ اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کا تعلق کہیں سے بھی ہے تو آپ یورپ نہ آئیے۔اسمگلروں پر یقین نہ کریں۔اپنی زندگیوں اور دولت کو داؤ پر نہ لگائیں۔اس سے کچھ حاصل وصول نہیں ہوگا''۔

اس وقت قریباً تیس ہزار مہاجرین اور تارکین وطن بلقان کی ریاستوں کی سرحدوں کی بندش کی وجہ سے یونان میں پھنسے ہوئے ہیں۔وہ اس روٹ کے ذریعے یورپ کے دولت مند وسطی اور شمالی ممالک کا رُخ کرتے ہیں لیکن سرحدیں بند ہونے سے ان کے راستے بھی مسدود ہوچکے ہیں۔

یونانی وزیر اعظم الیکسس سپراس نے مسٹر تسک کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ''آیندہ سوموار کو اجلاس میں یونان یورپی یونین کے تمام رکن ممالک سے تارکین وطن کا بوجھ بانٹنے کا مطالبہ کرے گا اور جو ممالک ایسا نہیں کریں گے،ان کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کرے گا۔انھوں نے کہا کہ یورپ میں یک طرفہ اقدامات بند ہونے چاہییں۔

آسٹریا اور بلقان کے روٹ پر آنے والے ممالک نے اپنی سرحدوں پر کڑی پابندیاں عاید کردی ہیں اور اب چند ایک لوگ ہی سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔بہت سے تارکین وطن جرمنی پہنچنا چاہتے ہیں۔مقدونیہ کی پولیس نے گذشتہ سوموار کو یونان کی سرحد کی جانب سے دھاوا بولنے والے سیکڑوں تارکین وطن پر اشک آور گیس کے گولے فائر کیے تھے۔