.

''ترکی کے استحکام کے لیے ایگزیکٹو صدارت ناگزیر ہے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے نائب وزیراعظم محمد شمشیک کا کہنا ہے کہ ملک میں استحکام اور اصلاحات کے لیے ایک ایگزیکٹو صدارتی نظام زیادہ مناسب رہے گا۔

انھوں نے سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے ساتھ جمعہ کے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ترکی کو مخلوط حکومتوں کے ہاتھ میں جانے اور اقتصادی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہنے سے بچانے کے لیے ایک ایگزیکٹو صدارتی نظام زیادہ مناسب ہے''۔

گذشتہ سال نومبر میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں حکمراں اے کے پارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی اور اس فتح کو صدر رجب طیب ایردوآن کی ملک میں صدارتی نظام لانے کے لیے تحریک کے حق میں ووٹ قرار دیا گیا تھا۔

ترک صدر نے ملک میں کئی ماہ کی غیر یقینی کی صورت حال کے بعد انتخابی نتائج کو استحکام کی جانب پیش قدمی قرار دیا تھا لیکن ان کے مخالفین اس خدشے کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ اس سے ان کی ہوسِ اقتدار ہی میں اضافہ ہوگا جبکہ وہ پہلے ہی مطلق العنان لیڈر بن چکے ہیں۔