.

"داعش" کا سٹے بازی کے ذریعے بھاری منافع کمانے کا انکشاف !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم اپنی نقد رقوم کے ڈپو کے نشانہ بنائے جانے کے سبب کاری ضرب کھانے کے بعد اب مالی رقوم حاصل کرنے کے اضافی ذرائع یقینی بنانے کے لیے مصروف عمل ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرجانے کے بعد اسمگل شدہ تیل کی فروخت سے تنظیم کو حاصل ہونے والے منافع میں بھی نمایاں کمی آئی ہے... جس کے بعد ایسا نظر آرہا ہے تنظیم نے نئے ذریعے کے طور پر حصص اور کرنسی کی عالمی منڈیوں میں سرمایہ کاری اور سٹے بازی شروع کردی ہے تاکہ منافع کی شکل میں جنگجوؤں کے لیے اضافی مالی آمدن کا بندوبست ہوسکے۔

برطانوی اخبار "ڈیلی ٹیلی گراف" نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ "داعش" تنظیم حصص اور کرنسی کی بین الاقوامی منڈیوں میں بھاری رقوم کی سرمایہ کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں ماہانہ تقریبا 2 کروڑ ڈالر اس کے ہاتھ آجاتے ہیں۔ یہ مالی سودوں کے ذریعے منصوبہ بندی کے ساتھ کی جانے والی سٹے بازی ہے جن میں زیادہ تر سودے مشرق وسطی کے بازاروں میں ہوتے ہیں۔ اس کے بعد حاصل ہونے والی رقوم سرکاری بینکوں کے راستے منتقل ہوکر آخر میں داعشی جنگجوؤں کی جیبوں تک پہنچ جاتی ہیں۔

اخبار کے مطابق "داعش" تنظیم 2014 میں عراق کے مرکزی بینک کی موصل کی شاخ سے لوٹے گئے کروڑوں ڈالروں کو حصص کے عالمی بازاروں اور مشرق وسطی کے اسٹاک ایکسچینجوں میں سٹے بازی کے علاوہ کرنسی مارکیٹ میں بھی سٹے بازی کے لیے استعمال میں لارہی ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کو حاصل ہونے والی معلومات میں انکشاف ہوا ہے کہ داعش تنظیم مالی سٹے بازی اور قانونی طریقوں سے ماہانہ تقریبا 2 کروڑ ڈالر حاصل کررہی ہے۔ شدت پسندوں کو بڑے پیمانے پر منافع ہورہا ہے جو "عراق اور اردن میں مالی حکام کے ذریعے" ان تک پہنچایا جارہا ہے۔

تنظیم کے ان مالیاتی سودوں کا انکشاف برطانوی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران سامنے آیا جس کا انعقاد امور خارجہ کی کمیٹی نے کیا تھا۔ کمیٹی نے ان مالیاتی تجاوز کو روکنے کے لیے برطانیہ کا کردار زیربحث لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

معلومات کے مطابق "داعش" تنظیم کے مالیاتی امور کے ذمہ داران کے ہاتھوں مالیاتی بازاروں میں زیراستعمال رقم کا اندازہ 43 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریٹائرڈ افراد کی پینشنوں کی لوٹی گئی رقم میں سے بھی کچھ حصہ لیا۔

برطانوی پارلیمنٹ کے اجلاس میں امور خارجہ کمیٹی کے ذمہ دار جان بیرون نے بتایا کہ "بینکوں اور ریٹائرڈ افراد کی پینشنوں سے لوٹی گئی رقم کو اردن کے بینکوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور پھر بغداد کے ذریعے دوبارہ سے عراقی بینکاری نظام کو واپس آجاتی ہے"۔ مزید برآں منافع کی رقوم کو ہنڈی کے ذریعے تنظیم کے خزانے منتقل کردیا جاتا ہے جب کہ ہنڈی کے نظام پر کوئی ہدایات اور قوانین لاگو نہیں۔

"ڈیلی ٹیلی گراف" کا کہنا ہے کہ عراق کے مرکزی بینک نے گزشتہ دسمبر میں عراق کی 142 کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کے نام جاری کیے تھے جن پر "داعش" تنظیم کو کرنسی منتقل کرنے کا الزام ہے۔

داعش تنظیم کئی ماہ سے شدید مالی بحران کا شکار ہے جس نے اسے عملے کی تنخواہوں کو 50 فی صد تک کم کرنے پر مجبور کردیا۔ یہ خیال بھی کیا جارہا ہے کہ تیل کا کاروبار جس پر داعش انحصار کرتی تھی قیمتیں گرجانے کے سبب اس کاروبار کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ یہاں تک کہ 2014 کے وسط کے مقابلے میں اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 70 فی صد سے زیادہ کمی ہوچکی ہے۔ اس کے نتیجے میں آج منڈی میں خام تیل کی قیمت اسمگل شدہ تیل سے بھی کم ہوچکی ہے جس کو داعش تنظیم مخصوص گروپوں کو فروخت کیا کرتی تھی اور پھر یہ گروپ اس تیل کو شام کے نزدیکی ممالک کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کردیتے تھے۔