.

پیرس میں شام سے متعلق مشاورت..اپوزیشن کی جنگ نہ رکنے کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے وزراء خارجہ کے درمیان شام میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ دوسری جانب مذاکرات کی سپریم اتھارٹی کے سربراہ ریاض حجاب کی جانب سے ملاقاتوں کے ایک سلسلے کی توقع ہے جس میں شامی حکومت اور روس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی اور رواں ماہ کی نو تاریخ سے ممکنہ طور پر شروع ہونے والے مذاکرات میں اپوزیشن کی شرکت کا مسئلہ زیربحث لایا جائے گا۔

اس سلسلے میں اتھارٹی کے ترجمان منذر ماخوس کا کہنا ہے کہ ریاض حجاب " گفتگو کے شرکاء کے سامنے زمینی صورت حال اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں بالخصوص انسانی حقوق کے حوالے سے غفلت کو پیش کریں گے"۔ ماخوس نے بتایا کہ "اس سلسلے میں بڑی پیش رفت ناگزیر ہے اور یہ پیش رفت شامی فریقوں کے درمیان مذاکرات میں ہماری شرکت کے فیصلے سے مربوط ہے.. وہ مذاکرات جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ 9 مارچ سے جنیوا میں دوبارہ شروع ہوں گے"۔

ادھر شام میں زمینی طور پر برسرجنگ اپوزیشن نے حکومتی افواج پر فائربندی کے معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھنے کا الزام عائد کیا ہے اور "جیش الاسلام" تنظیم کے نزدیک شام میں جنگ نہیں رکی ہے۔

"جيش الاسلام" کی جانب سے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "بشار الاسد کی ٹولیوں کے ساتھ ہماری جھڑپیں رکی نہیں ہیں، خواہ وہ الغوطہ میں ہو یا حمص اور حلب میں.. اور ہمارے لحاظ سے ان خلاف ورزیوں کی روشنی میں ابھی تک زمین پر عملی طور پر جنگ رکی نہیں.. البتہ اگر جنگ بندی واقع ہوجاتی ہے تو یہ معاشرے اور انسان کی تعمیر نو کے لیے موقع ہوگا جب کہ جنگ نے دونوں ہی کو تباہ کر ڈالا ہے"۔

دوسری جانب شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن دی مستورا کا کہنا ہے کہ لڑائی کی کارروائیاں موقوف کرنے پر عمومی جماؤ نظر آتا ہے مگر جنگ بندی اپنے آغاز کے چھ روز بعد بھی کمزور ہے البتہ حمص، حماہ، اللاذقیہ اور دمشق کے صوبوں میں واقعات کو کنٹرول کرلیا گیا۔