.

"مشتبہ دہشت گردوں کےخاندان قتل نہیں کئے جائیں گے"

متنازع امریکی صداراتی امیدوار ڈونلڈ ٹرامپ نے نیا یو ٹرن لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریپبلکن پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرامپ نے" دہشت گردی کے مشبتہ ملزموں پر تشدد اور ان کے گھروالوں کے قتل" سے متعلق متنازعہ بیان پر یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ "صدر منتخب ہو کر وہ امریکی فوج کو بین الاقوامی قانون توڑنے کا حکم نہیں دیں گے۔"

کثیر الاشاعت امریکی اخبار 'وال سٹریٹ جرنل' کو دئیے گئے ایک بیان میں ٹرامپ کا کہنا تھا کہ وہ "اپنی ہر ممکن قانونی طاقت استعمال کرتے ہوئے دشمن دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔"

ٹرامپ کا کہنا تھا "مجھے اندازہ ہے کہ امریکا کو قوانین اور معاہدوں کی پاسداری کرنا ہے اور میں فوج یا کسی دوسرے عہدیدار کو ایسا حکم نہیں دوں گا جس سے انہیں ان قوانین کو توڑنا پڑے۔ میں ایسے معاملات میں ان کے مشورے کو سنوں گا۔ میں کسی بھی فوجی افسر کو خلاف قانون حکم نہیں دوں گا۔"

ڈونلڈ ٹرامپ کا حالیہ بیان ان کے چوبیس گھنٹے قبل اس متنازع بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "صدارتی انتخاب جیتنے کی صورت میں وہ 'واٹر بورڈنگ'سے کہیں بدتر سزائیں دیں گے اور انہیں مشتبہ دہشت گردوں کے خاندانوں کو نشانہ بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔" انہوں نے ماضی میں بھی اس موقف کو اپنایا تھا کہ "امریکا کو دہشت گردوں کے خاندانوں کو قتل کردینا چاہئیے ۔"

ٹرامپ کی جانب سے ان متشدد بیانات کے نتیجے میں ان کے حامیوں نے بھی ان کی بولی بولنا شروع کردی ہے اور اب داعش اور دیگر شدت پسندوں کے خلاف امریکی کارروائی کی رفتار اور طریقہ کار پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔ مگر ان کے موقف پر تنقید بھی کی گئی تھی جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ پینٹاگان ایسے غیر قانونی احکامات پر عمل نہیں کرے گا۔

پاکستانی جوہری ہتھیاروں کا تحفظ

جمعرات کے روز صدارتی بحث کے دوران ایک سوال کے جواب میں ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرامپ کا کہنا تھا "کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے افغانستان میں امریکی فوج کا قیام جاری رکھیں گے۔"

ڈونلڈ ٹرامپ کے مطابق "ہمیں افغانستان میں امریکی فوجیوں کا قیام جاری رکھنا چاہیے، کیونکہ افغانستان کا پڑوسی ملک پاکستان ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور ہمیں انہیں محفوظ رکھنا ہے۔"

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "جوہری ہتھیار خطے میں پوری گیم کو پلٹ سکتے ہیں، اس لیے افغانستان کا پڑوسی ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا تحفظ ضروری ہے۔"

گزشتہ سال ستمبر میں ڈونلڈ ٹرامپ نے، پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوششوں میں ہندوستان کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی تھی۔