.

روس کا ’جیش الاسلام‘ کے ساتھ اعلانِ جنگ بندی

جیش الاسلام کی جانب سے جنگ بندی کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے شامی اپوزیشن کی نمائندہ عسکری تنظیم جیش الاسلام کے ساتھ جنگ بندی کا دعویٰ کیا ہے مگر دوسری جانب جیش الاسلام نے جنگ بندی کے روسی اعلان کی سختی سے تردید کی ہے۔

خیال رہے کہ روس اب تک شام میں لڑائی کے دوران جیش الاسلام کو دہشت گرد گروپ قرار دیتا چلا آیا ہے۔

روسی ذرائع ابلاغ نے ماسکو وزارت دفاع کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ترکی نے النصرہ فرنٹ کے خلاف لڑنے والے کرد جنگجوؤں پر بمباری کی ہے، ساتھ ہی ترکی سے شام میں اپوزیشن کو اسلحے سے بھرے ٹرکوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں جن کے ذریعے شدت پسندوں کو اسلحہ پہنچایا جا رہا ہے۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو روز میں جنگ بندی کی 41 بار خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

ادھر دوسری جانب شامی اپوزیشن نے اسد رجیم اور ان کے حامیوں پر انسانی حقوق کی پامالیوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ایک بار پھر الزام عاید کیا ہے۔ جیش الاسلام کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑائی ختم نہیں ہوئی ہے۔ ہم پر اب بھی شام میں حملے ہو رہے ہیں۔

جیش الاسلام کا کہنا ہے کہ ہمیں اب بھی الغوطہ، حص اور ادلب میں اسدی گماشتوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ ہمارے لیے کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔ جنگ بندی تباہی وبربادی جاری رکھنے کا نام نہیں بلکہ جنگ سے متاثرہ شہریوں کو سہولیات دینے اور تعمیرنو کے لیے ہوتی ہے۔

درایں اثناء شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسٹیفن ڈی مستورا کا کہنا ہے کہ مجموعی طورپر جنگ بندی قائم ہے مگر گذشتہ چھ ایام میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے اکا دکا واقعات سامنے آئے ہیں۔ حمص، حماۃ، اللاذقیہ اور دمشق میں حالات کسی حد تک قابو میں ہیں۔