.

لیبیا کے مستقبل کو داعش کا خطرہ درپیش ہے: بین کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے لیبیا کے مستقبل اور پورے خطے کے استحکام کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے کیوںکہ اسے داعش کے "خوفناک خطرے" کا سامنا ہے۔"

مگر انہوں نے بین الاقوامی طاقتوں کو خبردار کیا کہ وہ ملک کے اندر جاری تنازعے کی آگ کو مزید ہوا نہ دیں۔

بین کی مون مغربی اور شمالی افریقہ کے دورہ پر ہیں اور انہوں نے ہفتے کے روز موریطانیہ کا دورہ مکمل کر کے الجزائر کا رخ کیا ہے۔ موریطانیہ کے صڈر محمد ولد عبدالعزیز اور وزیر اعظم یحییٰ ولد ہادیمین سے ملاقاتوں کے بعد ان کا کہنا تھا کہ وہ لیبیا میں موجود صورتحال پر بہت تشویش رکھتے ہیں۔

بین کی مون کا کہنا تھا کہ "لیبیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بہت خطرناک رپورٹس سامنے آرہی ہیں جن میں کئی جنگی جرائم میں شمار کی جاسکتی ہیں۔ تمام بااثر افراد کو اس صورتحال کو ٹھنڈا کرنے اور لڑائی رکوانے کی خاطر کوشش کرنی چاہئیے ہیں۔ کسی بھی غیر ملکی طاقت کی جانب سے اس آگ کو مزید ہوا دینے کی کوشش غیر ذمہ دارانہ ہوگی۔"

بین کی مون کے مطابق ان کے خصوصی نمائندے مارٹن کوبلر لیبیا میں ایک متحدہ حکومت کے قیام کے لئے مذاکرات کا انعقاد کروا رہے ہیں کیوںکہ ہمیں لیبیا اور اس کے گرد ونواح میں داعش کے پھیلنے کا خطرہ درپیش ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کا تعطل انسانی بحران کو مزید بدتر بنا دے گا اور اس وقت لیبیا کا مستقبل دائو پر ہے اور ان تمام حالات کے اثرات دور تک محسوس کئے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس موقع پر موریطانیہ سے بھی مدد طلب کی تاکہ وہ مراکش اور مغربی صحارا میں علاحدگی پسند گروپ کے درمیان صلح کروانے میں مدد کرے۔