.

پوپ کی نظر میں پناہ گزینوں کی آمد یورپ پر "عربوں کا حملہ"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کے تازہ بیان نے یورپ کا رخ کرنے والے عرب پناہ گزینوں کو مرزا غالب کے اس شعر کا مصداق بنا دیا ہے:

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خُدا... لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں!

نہ تو کوئی طارق بن زیاد اور نہ ہی ان کا یہ قول "تمہارے پیچھے سمندر اور سامنے دشمن ہے" یہاں تک کہ پانی پر کوئی ایک بحری جہاز یا کشتی بھی نہیں جلائی گئی۔ لاکھوں عرب اور مسلمان پناہ گزینوں پر مشتمل یہ کیسی فوج ہے جو یورپ پر خوش وضع انسانی ہتھیار کی شکل میں حملہ آور ہے جب کہ میدان جنگ میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکا۔

پوپ فرانسس کی پاپائی انداز میں "زبان سے پھسلی" بات نے میڈیا کی شہہ سرخیوں میں جگہ بنا لی۔ پوپ فرانسس نے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں یورپ آمد کو براعظم پر "عربوں کا حملہ" قرار دیا۔ انہوں نے یہ بات بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کیتھولک فرانسیسیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یورپی یونین کے رکن ممالک کو پیش کی جانے والی پناہ کی درخواستیں 2014 کے مقابلے میں دوگنا ہوگئیں اور گزشتہ سال ان کی تعداد 12 لاکھ تک پہنچ گئی جن میں زیادہ تر درخواست دہندہ مسلمان ہیں۔

پوپ کا کہنا تھا کہ "آج ہم یورپ پر عرب حملے کے بارے میں بات کرسکتے ہیں جو کہ معاشرتی حقیقت ہے"۔ تاہم پھر اپنے جملے کی معنوی سنگینی سے خبردار ہوکر سیاق کو قطع کرکے بولے "لیکن پناہ گزینوں کی یہ لہر یورپ کے لیے ایک نیا موقع بھی ہے جو اپنی تاریخ میں "حملوں" کی بہت سی لہریں دیکھ چکا ہے.. اس چیز نے یورپ کو ہمیشہ آگے بڑھایا ہے کیوں کہ اس طرح وہ متنوع ثقافتوں کے حوالے سے زیادہ مال دار ہوجاتا ہے"۔

پوپ فرانسس نے یہ خطاب گزشتہ منگل کو فرانس میں Poissons Roses کے نام سے معروف بائیں بازو کے کیتھولک نظریاتی گروپ کے 30 ارکان کے سامنے کیا جو ان سے ملاقات کے لیے ویٹی کن کے دورے پر آئے تھے۔ تاہم ان کا خطاب جمعہ کے روز ہی منظرعام پر آسکا جب ویٹی کن کے اطالوی زبان کے روزنامے L'Osservatore Romano نے اسے شائع کیا۔ یہ اخبار پانچ زبانوں میں ہفتہ وار بھی نکلتا ہے جس میں جنوبی ہندوستان کی ملیالم زبان شامل ہے جب کہ پولیش زبان میں اس کا ماہانہ ایڈیشن جاری ہوتا ہے۔ سوشل ویب سائٹوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے پوپ کے بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کا بیان تہذیبوں کے تنازع کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

ادھر فرانسیسی شاعر، صحافی اور مصنف Jean-Pierre Denis نے مقامی روزنامے "لومونڈ" کو دیے گئے انٹرویو میں پوپ فرانسس کے موقف کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں مثبت ماحول میں ہونے والی اس ملاقات میں موجود تھا "مگر میں ان لوگوں سے سخت نالاں ہوں جنہوں نے پوپ کی بات کی غیرحقیقی تشریح کی، پوپ کی رائے کے مطابق اسلام (مسلمانوں) کے ساتھ مکالمے کے سوا کوئی حل نہیں"۔

پوپ نے اپنے خطاب میں نومبر 2014 میں یورپی پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کا یہ جملہ بھی دہرایا کہ نومولود کی شرح کے لحاظ سے "یورپ جو ماضی میں ماں کی مانند تھا اب نانی کی حیثیت اختیار کرگیا ہے"۔ یہ شرح اٹلی اور اسپین میں تقریبا صفر ہے۔ پوپ کا کہنا تھا کہ "ماں بننے کے لیے عورت پر بچوں کی پیدائش لازم ہے".. تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ براعظم (یورپ) کو صرف تعداد بڑھانے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔