.

افغانستان داعش کا قبرستان بنے گا: صدر اشرف غنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کو شکست سے دوچار کردیا گیا ہے اور ان کا ملک داعش کا قبرستان ثابت ہوگا۔

انھوں نے اتوار کے روز پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فورسز نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع مشرقی صوبے ننگرہار کے علاقوں میں داعش کے وفاداروں کا قلع قمع کردیا ہے۔

انھوں نے قومی ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی تقریر میں کہا کہ ''افغانستان داعش کا قبرستان بنے گا''۔داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے افغانستان کے مشرقی اضلاع میں سر اٹھایا ہے۔افغان حکام کا کہنا ہے اس گروپ میں طالبان کے منحرف کمانڈروں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

افغان فورسز نے ننگرہار کے اضلاع اچین اور شنوار میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف اکیس روز تک کارروائی کے بعد فتح کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کارروائی میں کم سے کم دوسو جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

داعش سے وابستگی کا اعلان کرنے والے جنگجوؤں نے حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع چین اور شنوار کے علاوہ ننگرہار کے دوسرے دور دراز پہاڑی علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ان کے خلاف کارروائی کے دوران فضائی حملوں میں ان کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے اور یکم فروری کو داعش کے ایک ریڈیو اسٹیشن کو بھی بمباری کرکے تباہ کردیا گیا تھا۔اس کے ذریعے صوبہ ننگرہار میں داعش میں بھرتی کے لیے پیغامات نشر کیے جاتے تھے۔

افغان فوج کے ایک ترجمان کرنل شیریں آغا کا کہنا ہے کہ ''ننگرہار میں کارروائی کا مقصد داعش کے جنگجوؤں کا قلع قمع کرنا تھا۔اس کے دوران مقامی لوگوں نے بھی افغان فورسز کی مدد کی ہے اور انھوں نے اپنے دیہات میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے چیک پوائنٹس قائم کیے تھے''۔

داعش کے جنگجوؤں کی طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ بھی افغانستان کے بعض مشرقی علاقوں میں قبضے کے لیے خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔اس وقت افغان حکومت طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہے تاکہ ملک میں گذشتہ پندرہ سال سے جاری جنگ کا خاتمہ کیا جاسکے۔