.

حسن ترابی ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک

نماز جنازہ میں سوڈان کے نائب صدر باقری حسن سمیت اعلیٰ عہدے داروں کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر اور سیاست دان ڈاکٹر حسن الترابی کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں دارالحکومت خرطوم میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

ڈاکٹر حسن الترابی ہفتے کے روز حرکتِ قلب بند ہوجانے سے انتقال کرگئے تھے۔ان کی عمر چوراسی برس تھی۔ان کی نماز جنازہ میں سوڈان کے نائب صدر باقری حسن صالح سمیت متعدد اعلیٰ سرکاری عہدے دار اور زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے قریباً تین ہزار افراد شریک تھے۔انھیں خرطوم کے شمال میں واقع بری قبرستان میں دفن کیا گیا ہے۔

سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے ان کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکے ہیں۔وہ انڈونیشیا کے دورے پر آج ہی روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ سوموار کو شروع ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔وہ ہفتے کی شام ترابی خاندان کے ہاں گئے تھے اور ان سے ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا تھا۔

مرحوم ڈاکٹر حسن الترابی ایک وقت میں عمر حسن البشیر کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے اور انھوں نے 1989ء کی فوجی بغاوت میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں عمرالبشیر حکومت کا تختہ الٹ کر برسراقتدار آئے تھے۔

لیکن اس کے ایک عشرے کے بعد ان دونوں رہ نماؤں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگِئے تھے اور ان میں اقتدار و اختیار کی جنگ شروع ہوگئی تھی۔مرحوم حسن الترابی نے صدر بشیر کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا تھا جس کی پاداش میں انھیں حکمراں جماعت نیشنل کانگریس سے نکال باہر کیا گیا تھا۔انھوں نے بعد میں پاپولر کانگریس پارٹی کے نام سے اپنی الگ جماعت بنالی تھی۔

مرحوم واحد سوڈانی سیاست دان تھے جنھوں نے صدر بشیر کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے دارفور میں جنگی جرائم،انسانیت مخالف جرائم اور نسل کشی کے الزامات میں جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کی حمایت کی تھی۔

انھوں نے جنوری 2009ء میں صدر بشیر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خود کو آئی سی سی کے حوالے کردیں۔اس کے دو روز بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ڈاکٹر حسن الترابی کو چار عشروں پر محیط سیاسی کیرئیر کے دوران متعدد مرتبہ قید وبند کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انھیں سوڈان کی سرحدوں سے باہر بھی ایک سرکردہ دانشور کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا اور انھوں نے سوڈان میں 1983ء میں اسلامی شرعی قوانین متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔تاہم ان قوانین کے نفاذ کے بعد شمالی سوڈان اور عیسائی اکثریتی جنوبی سوڈان کے درمیان خانہ جنگی چھڑ گئی تھی اور یہ بائیس سال تک جاری رہی تھی۔ اس دوران قریباً بیس لاکھ افراد مارے گئے تھے اور یہ لڑائی جنوبی سوڈان کی علاحدگی اور ایک الگ ملک کے قیام پر منتج ہوئی تھی۔