.

ایران: فوجی مشقوں کے دوران بیلسٹک میزائلوں کے تجربات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے منگل کے روز فوجی مشقوں کے دوران متعدد بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کیے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب نے ملک میں مختلف مقامات سے ان میزائلوں کے تجربات کیے ہیں اور یہ ان کی سد جارحیت کی صلاحیت اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیاری کا مظہر ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے میزائل تجربات کی فوٹیج نشر کی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ میزائل تجربات کسی زیر زمین مقام اور رات کے وقت کیے گئے ہیں۔پریس ٹی وی کے مطابق بیلسٹک میزائل عماد کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ماڈل کا تجربہ بھی کیا گیا ہے۔

ایران کے ان تجربات سے دو ماہ قبل ہی امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی میں معاونت پر بارہ بین الاقوامی کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عاید کی تھیں۔یہ پابندیاں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی ایک خفیہ رپورٹ کی روشنی میں لگائی گئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے 10 اکتوبر2015ء کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے عماد بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کا یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کی خلاف ورزی تھا۔سلامتی کونسل کی 2010ء میں منظور کردہ قرارداد 1929 کے تحت ایران پر تمام بیلسٹک میزائلوں کے تجربات پر پابندی عاید تھی۔تاہم اس قرارداد کی مدت ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر جنوری میں عمل درآمد کے بعد ختم ہوگئی تھی۔

اس کے بعد ایک نئی قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں ایران پر زوردیا گیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل میزائلوں پر کوئی کام نہ کرے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل نہیں ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیے گئے ہیں۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس زمین سے زمین میں مار کرنے والے ایسے میزائل موجود ہیں جو دو ہزار کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔وہ اسرائیل اور خطے میں امریکا کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔