.

ایران یمنی بحران سے دور ہی رہے : حوثی رہ نما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار حوثی شیعہ باغیوں کے ایک سینیر عہدے دار نے ایرانی عہدے داروں سے کہا ہے کہ وہ یمنی تنازعے سے دور ہی رہیں۔

حوثیوں کی جانب سے یہ انتباہ ایک ایرانی جنرل کے بیان کے ردعمل میں سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران یمن میں حوثی فورسز کی مدد کے لیے فوجی مشیر بھیج سکتا ہے۔

اس کے ردعمل میں حوثی انقلابی کمیٹی کے ایک رکن ابو مالک یوسف الفیشی نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ ''اسلامی جمہوریہ ایران کے عہدے دار خاموش ہی رہیں تو بہتر ہوگا اور وہ یمن فائل کے استحصال کو ایک طرف رکھ دیں''۔

یوسف الفیشی حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ان کا کسی ایرانی عہدے دار کے بیان کے جواب میں اس طرح کا یہ پہلا ردعمل ہے۔واضح رہے کہ ایران حوثی باغیوں کا پشتی بان ملک سمجھا جاتا ہے اور وہ ان کی سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے ساتھ لڑائی میں ہر طرح کی مدد کررہا ہے۔

ایران کی مسلح افواج (سپاہ پاسداران انقلاب) کے نائب سربراہ بریگیڈئیر جنرل مسعود جزائری نے منگل کے ایک روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران حوثیوں کی بالکل اسی انداز میں مدد کرسکتا ہے جس طرح اس نے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کی مدد کی ہے۔

ان کی پیش کش کے ردعمل میں یوسف الفیشی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب حوثی ملیشیا کا ایک وفد سعودی عرب کے دورے پر ہے اور یہ پیش رفت یمن میں جاری لڑائی کے خاتمے کی جانب بھی ایک اشارہ ہے جس کے نتیجے میں گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران قریباً چھے ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

درایں اثناء سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی اطلاع دی ہے۔اس نے اپنے ایک افسر کے بدلے میں سات یمنی قیدیوں کو رہا کیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کی یمنی سرحد کے ساتھ علاقے میں جنگ بندی جاری ہے۔