.

لیبیا میں داعش کے 5000 جنگجو موجود ہیں: اٹلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی کے وزیر خارجہ پاؤلو جینٹیلونی نے سینیٹ (پارلیمان) کو بتایا ہے کہ لیبیا میں سخت گیر گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش ) سے وابستہ جنگجوؤں کی تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے۔

انھوں نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ''داعش کے جنگجو لیبیا میں سرت کے علاقے تک ہی محدود ہیں لیکن وہاں سے وہ ہمسایہ ریاستوں میں دراندازی کی صلاحیت رکھتے ہیں''۔

وزیر خارجہ پاؤلو نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ لیبیا میں اٹلی کی قیادت میں امن فورس کی تعیناتی کے سوا کسی فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس امن فورس کی تعیناتی کے لیے بھی لیبیا میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے بعد اس کی جانب سے درخواست آنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت ایسی کسی بے مقصد مہم جوئی میں شریک نہیں ہوگی جس سے کہ ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوجائیں۔ان کا کہنا تھا کہ فوجی مداخلت مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔لیبیا رقبے کے اعتبار سے اٹلی سے چھے گنا بڑا ملک ہے اور وہاں ملیشیاؤں اور فوج کے درمیان دولاکھ مسلح افراد موجود ہیں۔

پڑوسی ملک تیونس کے حکام نے داعش پر لیبیا کی سرحد کے نزدیک واقع شہر بن قردان میں سوموار کے روز فوجی اور پولیس بیرکوں اور چوکیوں پر حملے کا الزام عاید کیا ہے۔تیونسی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے تینتالیس مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

اٹلی نے گذشتہ ہفتے اپنی خصوصی فورسز کے پچاس ارکان کو لیبیا روانہ کیا تھا جو وہاں برطانوی اور فرانسیسی خفیہ ایجنٹوں کے ساتھ مل کر سراغرسانی کی کارروائیوں میں شریک ہیں۔اٹلی نے حال ہی میں امریکا کو سسلی میں واقع اپنے ہوائی اڈے کو لیبیا میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی بھی اجازت دے دی تھی۔