.

امریکا میزائل تجربے پر ایران مخالف کارروائی کرے گا: بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے کی تصدیق ہوجاتی ہے تو ان کا ملک تہران کے خلاف کارروائی کرے گا۔

جو بائیڈن نے اسرائیل کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ ''میں اس موقف کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں،جیسا کہ میں جانتا ہوں لوگوں کو ابھی اس میں شک ہے،اگر انھوں نے (ایرانیوں نے) حقیقت میں جوہری معاہدے کو توڑا ہے تو ہم کارروائی کریں گے''۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''ان کی ہر طرح کی روایتی (ہتھیاروں) کی سرگرمی جوہری معاہدے سے باہر ہے،ہم وہاں کارروائی کریں گے جہاں یہ کی جاسکتی ہے''۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے دو بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کیے ہیں۔پاسداران انقلاب کی میزائل بیٹری کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ ایران کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اسرائیل کو ہدف بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

ایران کی ایسنا نیوز ایجنسی کے مطابق بریگیڈئیر جنرل امیر علی حاجی زادے نے کہا ہے کہ'' ہم نے دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل اس لیے ڈیزائن کیے ہیں تاکہ وہ کسی محفوظ جگہ سے ہمارے صہیونی دشمن کو نشانہ بنا سکیں''۔

درایں اثناء سپاہ پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ ''آج بدھ کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل قدر-ایچ اور قدر-ایف چلائے گئے ہیں اور انھوں نے اپنے اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا ہے''۔

ایران نے منگل کے روز بھی فوجی مشقوں کے دوران متعدد بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کی اطلاع دی تھی لیکن امریکا کے محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ان تجربات کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں۔تاہم انھوں نے خبردار کیا تھا کہ امریکا ان کے ردعمل میں یک طرفہ یا بین الاقوامی اقدام کرسکتا ہے۔

اس بیان پر سپاہ پاسداران انقلاب کے فضائی شعبے کے سربراہ جنرل بریگیڈیئر امیر علی حاجی زادہ نے کہا کہ ''ہمارے دشمن پابندیوں میں جتنا اضافہ کریں گے،پاسداران انقلاب کا ردعمل اتنا ہی زیادہ ہوگا''۔

ایران نے مختصر ،درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں کے تجربات کیے ہیں۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ میزائل 300 کلومیٹر ،500 ،800 اور 2000 ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں۔

ان تجربات سے دو ماہ قبل ہی امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی میں معاونت پر بارہ بین الاقوامی کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عاید کی تھیں۔یہ پابندیاں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی ایک خفیہ رپورٹ کی روشنی میں لگائی گئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے 10 اکتوبر2015ء کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے عماد بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کا یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کی خلاف ورزی تھا۔سلامتی کونسل کی 2010ء میں منظور کردہ قرارداد 1929 کے تحت ایران پر تمام بیلسٹک میزائلوں کے تجربات پر پابندی عاید تھی۔تاہم اس قرارداد کی مدت ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر جنوری میں عمل درآمد کے بعد ختم ہوگئی تھی۔

اس کے بعد ایک نئی قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں ایران پر زوردیا گیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل میزائلوں پر کوئی کام نہ کرے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل نہیں ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیے گئے ہیں۔