.

سعودی ،یمن سرحد پر امدادی سامان پہنچانے کے لیے لڑائی میں وقفہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد سے یمن کی قبائلی شخصیات نے مملکت کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں ''امن کی حالت کے قیام'' کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جنگ سے متاثرہ یمنی دیہات میں ادویہ اور امدادی سامان پہنچایا جاسکے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جن علاقوں میں فوجی کارروائی کی جارہی ہے،ان کے نزدیک واقع دیہات میں اولاب بارڈر کراسنگ کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جائے گا۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے سرحدی علاقے میں شدید جھڑپوں میں ''وقفے'' کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے تنازعے کے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف مارچ 2015ء سے فضائی حملے کررہا ہے۔ان حملوں کے آغاز کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر حوثی باغیوں اور سعودی فورسز میں متعدد مرتبہ خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں اور اتحادی فورسز نے حوثیوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔