.

جان کیری کا میزائل تجربات پرایرانی وزیرخارجہ سے احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ایران کی جانب سے مبینہ طور پر حال ہی میں کیے گئے بیلسٹک میزائل کے تجربات پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں واشنگٹن تہران کے خلاف سخت اقدامات کر سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ تہران نے بیلسٹک میزائل کے تجربات کر کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

منگل کے روز جب یہ خبر سامنے آئی کہ ایران نے عالمی طاقتوں سے طے پائے جوہری معایدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیلسٹک میزائل کے تجربات کیے ہیں تو امریکی سفارت کاروں نے اس کی تردید کی تھی۔ بعد ازاں بدھ کو امریکی حکومت کے ترجمان جان کیری نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ضروری ہوا تو واشنگٹن تہران کو اس کے میزائل تجربات پر سخت جواب دے گا۔ تہران کے خلاف کارروائی اقوام متحدہ کے فورم سے بھی کی جا سکتی ہے اور امریکا یک طرفہ کارروائی کا بھی حق رکھتا ہے‘‘۔ ان کا اشارہ ایران پر ممکنہ طور پر اقتصادی پابندیوں کی جانب تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے تازہ میزائل تجربات پر گہری تشویش ہے اور وزیرخارجہ جان کیری اس حوالے سے اپنے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سے تفصیلی بات چیت کریں گے۔

قبل ازیں امریکی نائب صدر جون بائیڈن میں بیت المقدس میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ اگرایران پر جوہری معاہدے کے خلاف ورزی کا الزام ثابت ہو گیا تو امریکا حرکت میں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ متنازع میزائل تجربات تہران کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض لوگ اسے شک و شبے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مگر میں یہ بات یقین سے کہتا ہوں کہ اگر ایران نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسے اس کی قیمت چکانا ہو گی۔

خیال رہے کہ ایران نے حال ہی میں بیلسٹک میزائل کے دو کامیاب تجربات کیے ہیں۔ یہ میزائل 1400 کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ منگل کے روز کم، درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلیسٹک میزائلوں کے تھر میزائلوں کے تجربات کیے گئے تھے۔