.

خبردار! مسلمان امریکا آ رہے ہیں!

نیویارک میٹرو کے در و دیوار اسلام فوبیا مخالف مہم میں ہم آواز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں پچھلے کچھ عرصے سے جہاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے مظاہر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے وہیں معاشرے کے اعتدال پسند طبقات اسلام فوبیا کے خلاف مہمات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں اسلام کی حقیقی تصویر کو اجاگر کرنے مساعی جمیلہ میں پیش پیش ہیں۔

امریکا میں اسلام فوبیا کے خلاف جاری مہمات میں ایک تازہ مہم امریکی فن کاروں کی جانب سے شروع کی گئی ہے جس میں نیویارک میٹرو کے اطراف میں مزاحیہ نعروں اور عبارات پر مبنی پوسٹر آویزاں کیے گئے ہیں۔ یہ مہم امریکی کامیڈین نیگن فرساد اور فلسطینی نژاد مزاحیہ فن کار دین عبیداللہ سمیت کئی دوسرے فن کاروں کی مشترکہ کاوش ہے۔

انہوں نے امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ سے میٹرو کے اطراف میں اسلام فوبیا مخالف پوسٹر آویزاں کرنے کے لیے خصوصی اجازت حاصل کرنے کے بعد اپنی مہم شروع کی۔ اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات کو اجاگر کرنے کے لیے ان کی مہم پر بیس ہزار ڈالر سے زیادہ کے اخراجات آئے ہیں مگراسلام فوبیا کا شکار معاشرے کے لیے یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہے۔ میٹرو کے آس پاس لگے پوسٹروں پر اسلام کے بارے میں اہم معلومات اور مزاحیہ و فکاہیہ پیرائے میں اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کی مستحسن کوشش کی گئی ہے۔ اسلام فوبیا مخالف منفرد مہم کے چند ایک جملے ملاحظہ کیجیے۔ ’’دہشت گرد مفت میں دستیاب ہیں‘‘۔ ’’خبردار! مسلمان آ رہے ہیں‘‘۔ ’’سب سے پہلے مسلمانوں نے اسپتال کا تصور پیش کیا‘‘۔ امریکی پاپ سنگر جسٹن رنڈال ٹیمبرلک کا پتا سب سے پہلے مسلمانوں نے چلایا۔ ’مسلمانوں نے کافی ایجاد کی‘۔ ’’دانتوں کی معجون اور الجبرا بھی مسلمانوں کی ایجادات ہیں‘‘۔

امریکی فن کاروں کی اس مزاحیہ مہم کا مقصد محض تفریح مہیا کرنا نہیں بلکہ امریکا میں مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں پائے جانے والے غلط تصورات کی جگہ اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات کو اجاگر کرنا ہے۔